صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
273. باب الكفارة - ذكر البيان بأن المرء مخير في الافتداء بما تيسر عليه من هذه الأشياء الثلاث
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کو اختیار ہے کہ وہ ان تین چیزوں میں سے جو اس کے لیے آسان ہو، اس سے فدیہ ادا کرے
حدیث نمبر: 3982
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا كَعْب بن عُجْرَةَ أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَنِي بِصِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ أَيُّمَا تَيَسَّرَ .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے کعب بن عجرہ! کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے یا قربانی کرنے کا حکم دیا کہ جو بھی ان میں سے آسانی سے ہو سکے (وہ فدیہ میں ادا کر دوں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3971»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3982 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← كعب بن عجرة الأنصاري