صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
135. باب الإخلاص وأعمال السر - ذكر إثبات نفي الثواب في العقبى عن من راءى وسمع في أعماله في الدنيا
اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اپنے اعمال میں ریاکاری اور لوگوں کو سنانے کا ارادہ کرے، اس کے لیے آخرت میں کوئی اجر نہیں۔
حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا غَيْرَهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَنَوْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمَّعَ يُسَمِّعُ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى يُرَائِي اللَّهُ بِهِ" .
سلمہ بن کہیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میں نے ان کے علاوہ اور کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس لئے میں سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گیا۔ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص شہرت کے لئے کام کرے گااللہ تعالیٰ اس کی شہرت کروا دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لئے کام کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 407»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، الملائي هو أبو نعيم الفضل بن دكين، وجندب هو ابن عبد الله البجلي رضي الله عنه.
الرواة الحديث:
سلمة بن كهيل الحضرمي ← جندب بن عبد الله البجلي