پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. ذكر نفي جواز مضي المرء في أيمانه ونذوره التي لا يملكها أو يشوبها بمعصية الله جل وعلا-
- ذکر اس بات کی نفی کا کہ انسان کو ایسی قسموں اور نذروں پر عمل کرنے کی اجازت نہیں جو اس کے اختیار میں نہ ہوں یا جن میں اللہ کی نافرمانی ہو
حدیث نمبر: 4355
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ وَكَلِّمْ أَخَاكَ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلا فِيمَا لا تَمْلِكُ" .
سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے دو بھائی تھے جن کے درمیان وراثت سے متعلق کوئی مسئلہ تھا ان میں سے ایک نے دوسرے سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا، تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات چیت نہیں کروں گا اور یہ سارا مال خانہ کعبہ کے خزانے کے لیے مخصوص ہو جائے گا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک خانہ کعبہ تمہارے مال سے بے نیاز ہے تم اپنی قسم کا کفارہ دو اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی گناہ کے کام میں، رشتے داری کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے اور جو چیز تمہاری ملکیت میں نہ ہو اس کے بارے میں نہ تو تم پر کوئی قسم لازم ہو گی اور نہ ہی نذر لازم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4355]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4355، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7918، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3272، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19917» «رقم طبعة با وزير 4340»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4355 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي