الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
111. باب فضل الجهاد - ذكر البيان بأن الجهاد من أفضل الأعمال-
جہاد کے فضائل کا بیان - وضاحت کہ جہاد افضل ترین اعمال میں سے ہے
حدیث نمبر: 4595
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلالٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ". ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَشْهَدُ، وَأَشْهَدُ لا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ إِِلا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ" .
یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اسکے رسول پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی میں کسی کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا۔ ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی گواہی بھی دیتا ہوں کہ جو بھی شخص اس بات کی گواہی دے گا وہ شرک سے بری ذمہ ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4595]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4576»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (2897).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم غير يوسف بن عبد الله بن سلام
الرواة الحديث:
يوسف بن عبد الله الإسرائيلي ← عبد الله بن سلام الخزرجي