صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
285. باب الصور والمصورين - ذكر وصف العذاب الذي يعذب به المصورون-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر وصف اس عذاب کی جو تصویر بنانے والوں کو دیا جائے گا
حدیث نمبر: 5848
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مَعِيشَتِي مِنْ هَذِهِ التَّصَاوِيرِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ" ، فَاصْفَرَّ لَوْنُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ لا بُدَّ فَعَلَيْكَ بِالشَّجَرِ وَمَا لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ.
سعید بن ابوحسن بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں ایک ایسا شخص ہوں، جس کی روزی کا مدار تصویریں بنانے پر ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص تصویر بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے یہ عذاب دے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“ یہ سن کر اس شخص کا رنگ زرد ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر تم نے ضرور تصویریں بنانی ہیں تو تم درختوں کی بنا لو یا کسی ایسی چیز کی بنا لو جس میں روح نہیں ہوتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5848]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5818»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (120): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
سعيد بن يسار الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي