پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
582. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الشيء الذي يستدل به على مروق أهل النهروان من الإسلام-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس چیز کی وصف جو نہروان کے لوگوں کے اسلام سے نکلنے کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 6741
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالضَّحَّاكُ الْمِشْرَقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقْسِمُ قَسْمًا، إِِذَا جَاءَهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْدِلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِِذَا لَمْ أَعْدَلْ؟ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ، فَإِِنَّ لَهُ أَصْحَابًا" يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاتَهُ مَعَ صَلاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِِلَى نَصْلِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى رِصَافِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى نَضِيِّهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ وَهُوَ الْقِدْحُ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى قُذَذِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، وَمَثَلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينَ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ" ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ، فَوُجِدَ، فَأُتِيَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ بارش کے فرشتے نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، تو پروردگار نے اسے اجازت دیدی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: دروازے کا خیال رکھنا کوئی بھی شخص اندر نہ آئے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ابھی دروازے پر موجود تھیں کہ اسی دوران سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) وہ آ گئے انہوں نے دروازہ کھولا اور اندر آ گئے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لپٹانے لگے اور ان کا بوسہ لینے لگے۔ فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت تو انہیں شہید کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا سکتا ہوں جہاں انہیں شہید کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تو اس فرشتے نے اس جگہ کی مٹھی بھر مٹی لی جہاں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جانا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی وہ فرشتہ نرم (یعنی باریک) مٹی لے کر آیا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سرخ مٹی لایا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے لی اور اسے اپنے کپڑے میں رکھ لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6741]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3344، 3610، 4351، 4667، 5058، 6163، 6931، 6933، 7432، 7562، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1064، 1065، ومالك فى (الموطأ) برقم: 694، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 25، 6735، 6737، 6740، 6741، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2392، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2665، 2674، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2577، 4112، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2370، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4667، 4764، 4765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 169، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2903، 2904، 2972، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11164، والحميدي فى (مسنده) برقم: 766» «رقم طبعة با وزير 6706»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (924 و 925).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6741 in Urdu
الضحاك بن شراحيل الهمداني ← أبو سعيد الخدري