صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
602. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن من أمارة آخر الزمان اشتغال الناس بحديث الدنيا في مساجدهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان کی علامتوں میں سے لوگوں کا مساجد میں دنیا کی باتوں میں مشغول ہونا ہے
حدیث نمبر: 6761
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ النَّصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ، لَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو التَّقِيِّ هَذَا هُوَ: أَبُو التَّقِيِّ الْكَبِيرُ، اسْمُهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، وَأَبُو التَّقِيِّ الصَّغِيرُ هُوَ: هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، وَهُمَا جَمِيعًا حِمْصِيَّانِ ثِقَتَانِ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائی تھیں ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اندر نازل ہوئی اور قرآن نازل ہوا تو انہوں نے قرآن کا علم حاصل کیا اور سنت کا علم حاصل کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے بارے میں بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو قبض کر لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا تھوڑا سا نشان باقی رہ جائے گا، جو دھبے کے نشان کی مانند ہو گا پھر وہ شخص ہوئے گا، تو اس کے دل سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا اتنا نشان باقی رہ جائے گا جتنا اس آبلے کا ہوتا ہے جو کسی انگارے کے تمہارے پاؤں پر لگنے کی وجہ سے ہوتا ہے تمہیں وہ پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خرید و فروخت کریں گے، لیکن کوئی بھی شخص امانت ادا نہیں کرے گا، یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے گی بنو فلاں میں ایک امین آدمی ہے، یہاں تک کہ ایک شخص کے بارے میں یہ کہا: جائے گا، وہ کتنا تیز کتنا سمجھ دار کتنا عقل مند ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی بھلائی نہیں ہو گی۔
(سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہوں کیونکہ اگر وہ مومن ہو گا، تو اس کا دین میرے ساتھ دھوکہ دہی سے باز رکھے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہو گا تو کوتوال اسے (ایسا کرنے سے) باز رکھے گا لیکن اب تو میں صرف فلاں اور فلاں کے ساتھ لین دین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6761]
(سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہوں کیونکہ اگر وہ مومن ہو گا، تو اس کا دین میرے ساتھ دھوکہ دہی سے باز رکھے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہو گا تو کوتوال اسے (ایسا کرنے سے) باز رکھے گا لیکن اب تو میں صرف فلاں اور فلاں کے ساتھ لین دین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6761]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6723»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1163).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود