صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
626. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن الوقت الذي ولد فيه الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کے پیدا ہونے کا وقت
حدیث نمبر: 6785
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنَ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لابْنِ صَيَّادٍ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَفَصَهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: مَاذَا تَرَى؟ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِِنْ لَمْ تُدْرِكْهُ فَلا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ" . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ سَالِمٌ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ النَّخْلَ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لابْنِ صَيَّادٍ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: لَوْ تَرَكْتِيهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ" .
اسیر بن جابر بیان کرتے ہیں: تیز ہوا چل پڑی ہم اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ ہمیں ان کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس ہو گئے انہوں نے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک وراثت کی تقسیم ختم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کے ذریعے خوش نہیں ہوا جاتا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے شام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس طرف دشمن مسلمانوں کے لئے اکٹھا ہو گا پھر ان کا آمنا سامنا بھی ہو گا اور یہ شرط عائد کی جائے گی کہ مر جائیں گے (لیکن واپس نہیں جائیں گے) تو واپس وہی جائے گا جو غالب ہو گا یہ لوگ لڑائی کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا، تو یہ لوگ واپس چلے جائیں گے وہ لوگ بھی واپس چلے جائیں گے کوئی بھی غائب نہیں آیا ہو گا اور شرط کا وقت بھی ختم ہو جائے گا پھر اگلے دن موت کی شرط رکھی جائے گی کہ وہی واپس آئے گا جو غالب ہو گا، پھر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا یہ بھی واپس آ جائیں گے اور وہ بھی واپس چلے جائیں گے دونوں میں سے کوئی بھی غالب نہیں آیا ہو گا اور شرط ختم ہو جائے گی پھر اس سے اگلے دن تیسرے دن موت کی شرط عائد کی جائے گی کہ وہی واپس آئے گا جو غالب ہو گا وہ لوگ لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا تو وہ گروہ بھی واپس چلا جائے گا یہ بھی واپس چلا جائے گا کوئی غالب نہیں آیا ہو گا پھر چوتھے دن ان کے درمیان لڑائی ہو گی تو یہ ان کے ساتھ لڑائی کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیں گے، یہاں تک کہ خون گھوڑوں کی گردن تک پہنچ جائے گا اور لڑائی ہوتی رہے گی یہاں تک کہ ایک ہی باپ کے بیٹے ایک سو لوگوں کے ساتھ مقابلہ کریں گے، تو وہ مارے جائیں گے یہاں تک کہ ان میں سے صرف ایک شخص باقی رہ جائے گا، تو پھر اس کے بعد وراثت کیسے تقسیم ہو گی اور پھر کون سی غنیمت کے ہمراہ خوشی حاصل کی جائے گی پھر لوگ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے ابھی وہ دینار اور ڈھالیں تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اسی دوران بڑی پریشان کن چیز ان تک آ جائے گی دجال تمہاری اولادوں کے درمیان ظہور پذیر ہو گا تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہو گا وہ اسے پھینکیں گے اور آ جائیں گے وہ لوگ اپنے گھڑ سواروں کو بھیجیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: وہ اس دن روئے زمین کے سب سے بہترین سوار ہوں گے میں ان لوگوں کے نام ان کے آباء کے نام ان کے قبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں سے بھی واقف ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6785]
تخریج الحدیث: «0»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (751 و 752): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي