صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
76. باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر كتبة الله جل وعلا الحسنة للمسلم الفقير الصابر على ما أوتي من فقره بما منع من حطام هذه الزائلة
فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اللہ جل وعلا کی طرف سے اس صابر فقیر مسلمان کے لیے نیکی لکھنے کا ذکر جو اپنے فقر پر صبر کرتا ہے اور اس فانی دنیا کے مال سے محروم رہتا ہے
حدیث نمبر: 685
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَرَى كَثْرَةَ الْمَالِ هُوَ الْغِنَى؟"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَتَرَى قِلَّةَ الْمَالِ هُوَ الْفَقْرُ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّمَا الْغِنَى غِنَى الْقَلْبِ، وَالْفَقْرُ فَقْرُ الْقَلْبِ" ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فقَالَ:" هَلْ تَعْرِفُ فُلانًا"؟ قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَكَيْفَ تَرَاهُ وَتَرَاهُ؟" قُلْتُ: إِذَا سَأَلَ أُعْطِيَ، وَإِذَا حَضَرَ أُدْخِلَ، ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فقَالَ:" هَلْ تَعْرِفُ فُلانًا؟" قُلْتُ: لا وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَمَا زَالَ يُحَلِّيهِ وَيَنْعَتُهُ حَتَّى عَرَفْتُهُ"، فَقُلْتُ: قَدْ عَرَفْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَكَيْفَ تَرَاهُ أَوْ تَرَاهُ؟" قُلْتُ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فقَالَ:" هُوَ خَيْرٌ مِنْ طِلاعِ الأَرْضِ مِنَ الآخَرِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلا يُعْطَى مِنْ بَعْضِ مَا يُعْطَى الآخَرُ؟ فقَالَ:" إِذَا أُعْطِيَ خَيْرًا فَهُوَ أَهْلُهُ، وَإِنْ صُرِفَ عَنْهُ فَقَدْ أُعْطِيَ حَسَنَةً" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر غفاری! کیا تم یہ سمجھتے ہو مال کا زیادہ ہونا خوشحالی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر، تو تم یہ سمجھتے ہو گے کہ مال کا کم ہونا غربت ہے میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ!، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اصل خوشحالی دل کا خوشحال ہونا ہے اور اصل غربت دل کا غریب ہونا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا: کیا تم فلاں شخص کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے اور اسے کیا سمجھا جاتا ہے؟ میں نے عرض کی: جب وہ کوئی چیز مانگے، تو اسے دیدی جائے جب وہ کہیں آئے، تو اسے اندر آنے دیا جائے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا اور فرمایا: کیا تم فلاں کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کی نہیں۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اسے نہیں جانتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حسب نسب میرے سامنے بیان کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے اس کو پہچان لیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس کی شناخت ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے اور اسے کیا سمجھا جاتا ہے۔ میں نے عرض کی: وہ صفہ سے تعلق رکھنے والا ایک غریب آدمی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ (غریب آدمی) اس دوسرے (امیر آدمی جیسے) زمین بھر لوگوں سے زیادہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص کو اس چیز میں سے کچھ حصہ عطا نہیں کیا گیا جو دوسرے کو دی گئی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس کو بھلائی دی گئی ہے، تو یہ اس کا زیادہ اہل ہے اور اگر اس کو اس سے پھیر لیا گیا ہے، تو اسے نیکی عطا کی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 685]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 684»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 92 - 93).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
جبير بن نفير الحضرمي ← أبو ذر الغفاري