صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
128. باب قراءة القرآن - ذكر الخبر الدال على أن من قرأ القرآن على حرف من الأحرف السبعة كان مصيبا
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی سات حروف میں سے کسی ایک حرف پر قرآن پڑھے وہ درست ہے
حدیث نمبر: 738
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِأَضَاةِ بَنِي غِفَارَ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ. فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ. فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ. فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى ثَلاثَةِ أَحْرُفٍ. قَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَاكَ. قَالَ: فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ. فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنَّ تَقْرَأَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْهَا فَهُوَ كَمَا قَرَأَ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اضاۃ بنو غفار کے علاقے (یہ مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ ہے) میں تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بیشکاللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک طریقے کے مطابق قرآن کی تلاوت سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا: میںاللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور اس کی مغفرت (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اس کی معونت اور اس کی معافات کا سوال کرتا ہوں تماللہ تعالیٰ سے ان لوگوں کے لیے تخفیف کا سوال کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے جبرائیل واپس چلے گئے پھر وہ واپس آئے، تو انہوں نے کہا: بیشکاللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میںاللہ تعالیٰ سے اس کی معافات اور مغفرت (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اس کی معونت اور معافات کا سوال کرتا ہوں تم ان لوگوں کے لئے تخفیف کی درخواست کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ جبرائیل واپس چلے گئے، پھر وہ واپس آئے اور بولے: بیشکاللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ قرآن تین حروف میں پڑھنا سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میںاللہ تعالیٰ سے اس کی معافات اور اس کی مغفرت (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اس کی معونت اور معافات کا سوال کرتا ہوں تم ان کے لئے تخفیف کی درخواست کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ جبرائیل واپس چلے گئے پھر وہ واپس آئے اور بولے: بیشکاللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اس قرآن کو سات حروف میں پڑھ سکتے ہیں، جو شخص ان میں سے کسی بھی ایک طریقے سے پڑھے گا، تو وہ ٹھیک پڑھے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 735»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1328): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
جعفر بن مهران: ذكره ابن حبان في «الثقات» وروى عنه جماعة، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← أبي بن كعب الأنصاري