صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
331. باب الأدعية - ذكر ما يستحب للمرء سؤال الرب جل وعلا المعونة والنصر والهداية
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے رب جل وعلا سے مدد، نصرت اور ہدایت مانگے
حدیث نمبر: 947
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَبِّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنَصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي، وَلا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا، لَكَ ذَاكِرًا، لَكَ أَوَّاهًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”اے میرے پروردگار! تو میری اعانت کر، تو میرے خلاف اعانت نہ کر، تو میری مدد کر، تو میرے خلاف مدد نہ کر، تو میرے حق میں خفیہ تدبیر کر، تو میرے خلاف خفیہ تدبیر نہ کر، تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور میرے لئے ہدایت پر ثابت قدم رہنا آسان کر دے اور جو شخص میرا مقابلہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف میری مدد کر۔ اے میرے پروردگار تو مجھے اپنا شکر گزار بنا دے اور اپنا ذکر کرنے والا بنا دے اپنا فرمانبردار بنا دے اپنا اطاعت کرنے والا بنا دے اور اپنی بارگاہ کی طرف رجوع کرنے والا اور تواضع و انکساری کرنے والا اور فرمانبردار بنا دے۔ اے میرے پروردگار! تو میری توبہ کو قبول کر لے میری خطا کو دھو دے، میری دعا کو قبول کر لے۔ میری حجت کو ثابت کر دے، میرے دل کو ہدایت پر ثابت قدم رکھ میری زبان کو ٹھیک رکھ اور مجھے دل کی خرابیوں سے محفوظ رکھ۔“ ل [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 943»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1353).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، غير طليق بن قيس، وهو ثقة، سفيان: هو الثوري، وعبد الله بن الحارث: هو الزبيدي المعروف بالمكتب.
الرواة الحديث:
طليق بن قيس الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي