🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. الأذان للخطبة يوم الجمعة
جمعہ کے دن خطبے کے لیے اذان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1060
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا محمد بن إسماعيل ابن مِهْران، حدثنا هشام بن عمَّار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاء ابن أبي رباح، عن ابن عباس قال: استوى النبيُّ ﷺ على المنبر يوم الجمعة، فقال للناس:"اجلِسُوا"، فسمعه ابنُ مسعود (1) وهو على باب المسجد فجَلَس، فقال له النبيُّ ﷺ:"تعالَ يا ابنَ مسعود" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1048 - على شرطهما
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر بیٹھے اور لوگوں سے فرمایا: بیٹھ جاؤ! ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو وہ مسجد کے دروازے میں تھے وہ وہیں بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اے ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) تم آگے آ جاؤ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1060]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1060 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: ابن مسعدة، في الموضعين، والتصويب من "السنن الكبرى" للبيهقي، وسائر مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ: (1) خطی نسخوں میں دو جگہوں پر "ابن مسعدہ" ہو گیا تھا، درست نام "ابن مسلمہ" (الوليد بن مسلمہ) ہے جیسا کہ بیہقی اور دیگر مصادر میں ہے۔
(2) رجاله ثقات ابن جريج -وهو عبد الملك بن عبد العزيز- وإن لم يصرح بسماعه من عطاء، فروايته عنه محمولة على الاتصال، والوليد بن مسلم قد صرَّح بالتحديث عنه، أما هشام بن عمار فقد كبر فصار يتلقن. ثم إنَّ هذا الحديث قد اختُلف في وصله وإرساله، قال أبو داود: هذا يعرف مرسلًا، وقال الدارقطني: والمرسل أشبه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابن جریج اگرچہ عطاء سے سماع کی صراحت نہیں کر رہے مگر ان کی روایت متصل ہی مانی جاتی ہے۔ ہشام بن عمار آخری عمر میں 'تلقین' (دوسروں کے بتائے ہوئے الفاظ لینے) لگے تھے۔ ⚠️ سندی اختلاف: اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے؛ ابوداؤد اور دارقطنی کے نزدیک اس کا "مرسل" ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔
قلنا: رواه ابن جريج، واختُلف عنه فيه:
🔍 علّت / فنی نکتہ: اسے ابن جریج سے روایت کیا گیا مگر ان کے شاگردوں میں اختلاف ہوا:
فقد رواه الوليد بن مسلم عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس، فجعله من مسند ابن عباس، كما عند الحاكم هنا، وعنه أخرجه البيهقي 3/ 205، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ولید بن مسلم نے ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس کی سند سے اسے "مسندِ ابن عباس" (موصول) قرار دیا جیسا کہ حاکم اور بیہقی کے ہاں ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1780) عن محمد بن يحيي، عن هشام بن عمار، به. وقال: إن كان الوليد ابن مسلم ومن دونه حفظ ابن عباس في هذا الإسناد، فإنَّ أصحاب ابن جريج أرسلوا هذا الخبر عن عطاء عن النبي ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: ابن خزیمہ (1780) نے ہشام بن عمار کے واسطے سے اسے روایت کیا اور کہا کہ اگر ولید نے اسے موصول یاد رکھا ہے تو ٹھیک، ورنہ ابن جریج کے باقی شاگردوں نے اسے عطاء عن النبی ﷺ "مرسل" ہی روایت کیا ہے۔
ورواه مخلد بن يزيد ومعاذ بن معاذ وأبو زيد النحوي عن ابن جريج عن عطاء عن جابر بن عبد الله، فجعلوه من مسند جابر.
⚠️ سندی اختلاف: مخلد بن یزید، معاذ بن معاذ اور ابوزید النحوی نے اسے ابن جریج عن عطاء عن جابر بن عبداللہ کی سند سے "مسندِ جابر" قرار دیا ہے۔
أما رواية مخلد بن يزيد فستأتي عند الحاكم (1068)، وعنه البيهقي 3/ 206 عن يحيى بن محمد العنبري، عن محمد بن إبراهيم العبدي، عن يعقوب بن كعب الحلبي، عنه، به.
📖 حوالہ / مصدر: مخلد بن یزید کی روایت حاکم (1068) اور بیہقی (206/3) میں محمد بن ابراہیم العبدی کے واسطے سے آئے گی۔
وعن يعقوب بن كعب هذا أخرجه أبو داود (1091)، ومن طريقه البيهقي 3/ 206، وابن الجوزي في "التحقيق" (806). قال أبو داود: هذا يعرف مرسلًا، إنما رواه الناس عن عطاء عن النبي ﷺ، ومخلد هو شيخ.
📖 حوالہ / مصدر: اسی کو ابوداؤد (1091) اور ابن الجوزی نے یعقوب بن کعب کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد نے کہا: یہ مرسل ہی معروف ہے، مخلد ایک (معمر) شیخ ہیں۔
وأخرجه أبو طاهر المخلِّص في "المخلصيات" (680) و (3141) -ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 33/ 128 - من طريق إسحاق بن زريق، عنه، به. ¤ ¤ وأما رواية معاذ بن معاذ فقد أخرجها البيهقي 3/ 218 من طريقه عن ابن جريج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوطاہر المخلص اور ابن عساکر نے اسحاق بن زریق کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ بیہقی نے معاذ بن معاذ کے طریق سے بھی اسے نقل کیا ہے۔
وأما رواية أبي زيد النحوي، فكما عند الدارقطني في "العلل" 13/ 383 (3274)، ولم نقع عليها فيما بين يديّ من مصادر.
📖 حوالہ / مصدر: ابوزید النحوی کی روایت کا ذکر دارقطنی کی "العلل" میں ہے مگر اصل مصادر میں ہمیں نہیں ملی۔
وقد رجح الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 3/ 293 كونه من حديث ابن عباس.
⚖️ درجۂ حدیث: حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (293/3) میں اسے "ابن عباس کی حدیث" ہونے کو ہی ترجیح دی ہے۔
وروى هذا الحديث أيضًا إسماعيل بن عياش، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن مسعود، فجعله من مسند ابن مسعود، كما في "علل الدارقطني".
⚠️ سندی اختلاف: اسماعیل بن عیاش نے اسے ابن جریج عن عطاء عن ابن مسعود کی سند سے "مسندِ ابن مسعود" قرار دیا (علل دارقطنی)۔
ورواه عبد الرزاق وروح بن عبادة عن ابن جريج عن عطاء، مرسلًا: أما رواية عبد الرزاق فهي في "مصنفه" (5368)، ورواية روح أخرجها الحارث بن أبي أسامة (1015 - بغية الباحث).
⚠️ سندی اختلاف: عبدالرزاق (5368) اور روح بن عبادہ نے اسے ابن جریج عن عطاء سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
ورواه عمرو بن دينار عن عطاء مرسلًا، أخرجه من طريقه البيهقي 3/ 218، وأبو إسماعيل الهروي في "ذم الكلام" (279). قال الدارقطني في "العلل" 13/ 383: ورواه عمرو بن دينار عن عطاء مرسلًا، والمرسل أشبه.
⚖️ درجۂ حدیث: عمرو بن دینار نے بھی عطاء سے اسے "مرسل" روایت کیا ہے (بیہقی 218/3)؛ امام دارقطنی کے نزدیک بھی یہی "مرسل" ہونا زیادہ صواب ہے۔