🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. الأذان للخطبة يوم الجمعة
جمعہ کے دن خطبے کے لیے اذان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1061
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا إسماعيل، حدثنا عبد الحميد صاحب الزِّيادي، حدثنا عبد الله بن الحارث ابنُ عمِّ (1) محمد بن سِيرِين: أنَّ ابن عباس قال لمؤذِّنه في يومٍ مَطِير: إذا قلتَ: أشهدُ أنَّ محمدًا رسول الله، فلا تقل: حيَّ على الصلاة، قل: صَلُّوا في بيوتِكم قال: فكأنَّ الناسَ استَنكَروا ذلك، فقال: قد فعل ذا مَن هو خيرٌ منِّي، إنَّ الجمعة عَزْمةٌ، وإني كرهتُ أن أُخرجَكم فتَمشُون في الطِّين والماء (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1049 - صحيح
محمد بن سیرین کے چچازاد بھائی یحیی بن محمد بن یحیی کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے موذن کو بارش والے دن کہا: جب اشھد ان محمد رسول اللہ پڑھ لو تو اس کے بعد حیی الاعلی الصلوۃ مت کہو بلکہ کہو صلو فی بیوتکم (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو) لوگوں نے یہ بات ناپسند کی تو آپ نے فرمایا: یہ عمل اس نے کیا ہے جو مجھ سے افضل ہے، بے شک جمعہ واجب ہے اللہ کا حق ہے۔ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ تمہیں گھروں سے نکالوں اور تم کیچڑ میں چلتے ہوئے آؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1061]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1061 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: "ابن عم" تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عن، والتصويب من "تلخيص الذهبي" و"صحيح البخاري"، وقد جاء في "إتحاف المهرة" 7/ 325: عبد الله بن الحارث نسيب محمد ابن سيرين، وكذا في "تهذيب الكمال" 14/ 400 فقال: عبد الله بن الحارث الأنصاري، أبو الوليد البصري، نسيب محمد بن سيرين، وختنه على أخته، وهو والد يوسف بن عبد الله بن الحارث.
🔍 فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "ابن عم" کی جگہ "عن" ہو گیا تھا، درست "ابن عم" (کزن) ہے۔ یہ عبداللہ بن الحارث الانصاری البصری ہیں جو محمد بن سیرین کے قریبی عزیز (بہنوئی) تھے۔
(2) إسناده صحيح. إسماعيل: هو ابن علية، وعبد الحميد صاحب الزيادي: هو ابن دينار.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ اسماعیل سے مراد ابن علیہ اور عبدالحمید سے مراد صاحب الزيادی (ابن دینار) ہیں۔
وأخرجه البخاري (901)، وأبو داود (1066) عن مسدد بن مسرهد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (901) اور ابوداؤد (1066) نے مسدد بن مسرہد کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (699) (26) عن علي بن حجر، عن إسماعيل ابن عُليَّة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (699/26) نے علی بن حجر عن اسماعیل ابن علیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (616) و (668)، ومسلم (699) (27) من طريق حماد بن زيد، ومسلم ¤ ¤ (699) (28) من طريق شعبة، كلاهما عن عبد الحميد صاحب الزيادي، به. وقرن في رواية حماد بعبد الحميد: أيوب بن أبي تميمة وعاصم بن سليمان الأحول.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (616، 668) اور مسلم نے حماد بن زید اور شعبہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ حماد کی روایت میں عبدالحمید کے ساتھ ایوب السختیانی اور عاصم الاحول کی متابعت بھی ہے۔
وأخرجه مسلم (699) (29)، وابن ماجه (939) من طرق عن عاصم الأحول وحده، ومسلم (699) (30) من طريق وهيب بن خالد عن أيوب بن أبي تميمة وحده، كلاهما عن عبد الله بن الحارث، به. وجاء عند مسلم عن أيوب: قال وهيب: لم يسمعه منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم اور ابن ماجہ (939) نے عاصم الاحول تنہا، اور وہیب بن خالد عن ایوب السختیانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ایوب کا سماع عبداللہ بن الحارث سے ثابت نہیں۔
قال الحافظ رشيد الدين العطار في "غرر الفوائد" ص 218: إنما أورد مسلم حديث وهيب هذا لينبه -والله أعلم- على الاختلاف فيه على أيوب، لأنَّ وهيبًا كان من حفاظ أهل البصرة وثقاتهم، إلّا أنَّ حماد بن زيد أثبت في أيوب من غيره، ولذلك قدَّم مسلم حديثه على حديث وهيب، ومع ذلك فلو سلّمنا أنَّ أيوب لم يسمعه من عبد الله بن الحارث، فقد بينا أنه متصل في كتاب مسلم وغيره من حديث غير واحد عنه، وبالله التوفيق، انتهى.
🔍 فنی نکتہ: حافظ رشید الدین العطار نے فرمایا: امام مسلم نے وہیب کی یہ بات اس لیے ذکر کی تاکہ ایوب کی روایت میں اختلاف واضح ہو جائے، اگرچہ حماد بن زید، ایوب کی روایات میں دوسروں سے زیادہ پختہ ہیں۔ بہرحال، دیگر صحیح سندوں سے یہ روایت متصل ثابت ہے۔
وأخرج ابن ماجه (938) من طريق عباد بن منصور، عن عطاء، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ أنه قال في يوم جمعة يوم مطر: "صلُّوا في رحالكم". وفي إسناده ضعف.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ماجہ (938) نے عباد بن منصور عن عطاء عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا کہ بارش والے جمعے کو "اپنے گھروں میں نماز پڑھو"؛ مگر اس کی سند میں ضعف ہے۔
وبنحوه أخرجه أحمد 4/ (2503) عن ابن أبي عدي، عن ابن عون، عن محمد بن سيرين، عن ابن عباس، وشكَّ ابن عون في رفعه. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (2503/4) نے ابن ابی عدی عن ابن عون عن محمد بن سیرین عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابن عون کو اس کے مرفوع ہونے میں شک تھا، مگر سند صحیح ہے۔
وفي الباب عن عبد الرحمن بن سمرة، وسيأتي برقم (1096).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عبدالرحمن بن سمرہ کی حدیث آگے نمبر (1096) پر آئے گی۔
وعن ابن عمر في الجماعة عند أحمد 8/ (447)، والبخاري (632)، ومسلم (697).
🧩 متابعات و شواہد: ابن عمر کی روایت باجماعت نماز کے بارے میں احمد (447/8) اور بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
قوله: "عزمة" أي: واجبة متحتمة، فلو قال المؤذن: حي على الصلاة، لكُلِّفتم المجئ إليها ولحقتكم المشقة.
📝 (توضیح): "عزمہ" (عزیمت) سے مراد واجب اور لازمی حکم ہے؛ یعنی اگر مؤذن 'حی علی الصلاۃ' کہتا تو تم پر (بارش کے باوجود) مسجد آنا لازم ہو جاتا اور مشقت ہوتی۔