🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. الأذان للخطبة يوم الجمعة
جمعہ کے دن خطبے کے لیے اذان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1062
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن خُبَيب بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن محمد بن مَعْن، عن ابنة حارِثةَ بن النُّعمان قالت: ما حفظتُ (قَ) إلّا من فِي رسول الله ﷺ يقرأُ بها في كلِّ يومِ جمعة، قالت: وكان تنُّورُنا وتنُّورُ رسول الله ﷺ واحدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه! وابنةُ حارثة بن النُّعمان قد سمَّاها محمد بن إسحاق بن يسار في روايته:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1050 - على شرط مسلم
حارثہ بن نعمان کی بیٹی کہتی ہیں: میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن سن کر یاد کی ہے۔ آپ ہر جمعہ کے دن سورۃ پڑھتے تھے۔ ہمارا اور آپ کا ایک ہی تنور تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1062]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1062 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، عبد الله بن محمد بن معن وإن تفرَّد بالرواية عنه خبيب بن عبد الرحمن ¤ ¤ وجهله الذهبي، قد توبع. وعبد الرحمن بن الحسن القاضي -وهو أبو القاسم الأسدي- شيخ الحاكم في الإسناد الأول، وإن كان ضعيفًا متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے؛ عبداللہ بن محمد بن معن اگرچہ خبیب بن عبدالرحمن کے تفرد کی وجہ سے مجہول کہے گئے مگر ان کی متابعت موجود ہے۔ حاکم کے شیخ عبدالرحمن القاضی ضعیف ہیں مگر متابعت میں معتبر ہیں۔
إبراهيم بن الحسين: هو ابن ديزيل، وشعبة: هو ابن الحجاج، ومحمد بن جعفر: هو غُندر.
🔍 فنی نکتہ: ابراہیم بن الحسین سے مراد 'ابن دیزیل'، شعبہ سے مراد 'ابن الحجاج' اور محمد بن جعفر سے مراد 'غُندر' ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 45/ (27628) عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (27628/45) میں محمد بن جعفر کی سند سے مروی ہے۔
وأخرجه مسلم (873) (51)، وأبو داود (1100) عن محمد بن بشار، عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (873/51) اور ابوداؤد (1100) نے محمد بن بشار کی سند سے روایت کیا ہے، لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27455)، والنسائي (1732) من طريقين عن محمد بن عبد الرحمن ابن سعد بن زرارة، عن ابنة حارثة، ووقع في رواية: أحمد امرأة من الأنصار، بدل ابنة حارثة، وهذا إسناد منقطع، فإنَّ محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة قد عدَّه الحافظ ابن حجر في "التقريب" في الطبقة السادسة، ورجال هذه الطبقة لم يثبت لقاؤهم بأحد من الصحابة.
⚖️ درجۂ حدیث: اسے احمد (27455/45) اور نسائی نے محمد بن عبدالرحمن عن ابنۃ حارثہ کی سند سے روایت کیا ہے، مگر یہ سند "منقطع" ہے کیونکہ محمد بن عبدالرحمن کا کسی صحابی سے ملنا ثابت نہیں (طبقہ سادسہ)۔
وأخرج أحمد وابنه عبد الله (27629)، والنسائي (1023) و (11456) من طريق عبد الرحمن ابن أبي الرجال، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عمرة، عن أم هشام بنت الحارث قالت: ما أخذت ﴿ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ﴾ إلّا من وراء رسول الله ﷺ كان يصلي بها في الصبح. وهذا إسناد ضعيف، عبد الرحمن بن أبي الرجال صدوق ربما أخطأ، وقد خالف الرواة عن يحيى بن سعيد في متنه، فقد رواه سليمان بن بلال ويحيى بن أيوب، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن أم هشام بنت الحارث، وقالت فيه: يوم الجمعة، كان يقرأ بها على المنبر كل جمعة. أخرجه مسلم (872) (50) وأبو داود (1102) و (1103).
⚖️ درجۂ حدیث: ام ہشام بنت حارث کی روایت کہ میں نے سورہ "ق" نبی ﷺ کے پیچھے نمازِ فجر میں سن کر یاد کی؛ اس کی یہ سند "ضعیف" ہے کیونکہ عبدالرحمن بن ابی الرجال کو وہم ہو جاتا ہے۔ محفوظ بات یہ ہے کہ آپ ﷺ یہ سورت جمعہ کے دن "منبر پر خطبے" میں پڑھتے تھے (مسلم 872)۔