المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. التشديد على التخلف عن الجمعة
جمعہ کی نماز سے پیچھے رہ جانے پر سخت وعید۔
حدیث نمبر: 1092
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا عَمرو بن خالد الحرَّاني، حدثنا زهير، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحْوَص، عن عبد الله، أنَّ النبيَّ ﷺ قال لِقومٍ يتخلفون عن الجمعة:"لقد هَمَمْتُ أن آمُرَ رجلًا يصلي بالناس، ثم أُحرِّقَ على قومٍ يتخلفون عن الجمعة بُيوتَهم" (3) . وهكذا رواه أبو داود الطيالسي عن زهير (4) ، وهو صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه هكذا، إنما خرَّجاه بذكر العَتَمة وسائر الصلوات (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1080 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1080 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں فرمایا: ”یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے عشاء اور دیگر نمازوں کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1092]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے عشاء اور دیگر نمازوں کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1092]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1092 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3816) و 7/ (4007)، ومسلم (652) من طرق عن زهير بن معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3816/6) اور مسلم (652) نے زہیر بن معاویہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3743) من طريق إسرائيل بن يونس، و 7/ (4295) و (4297) من طريق معمر بن راشد، كلاهما عن أبي إسحاق السبيعي، به. إلّا أنَّ رواية إسرائيل مطلقة لم يقيدها بالجمعة، ورغم أنَّ رواية إسرائيل عن جده أبي إسحاق في غاية الإتقان لملازمته إياه، إلّا أنَّ زهيرًا ومعمرًا قد تابعهما غير واحد على ذكر الجمعة كسفيان الثوري والرحيل بن معاوية أخي زهير، انظر تفصيل ذلك في تعليقنا على "مسند أحمد" (3743)، وانظر أحاديث الباب هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسرائیل بن یونس اور معمر بن راشد نے بھی ابواسحاق السبیعی سے روایت کیا ہے، مگر اسرائیل کی روایت میں جمعہ کی قید نہیں ہے، جبکہ زہیر اور معمر کی متابعت سفیان ثوری وغیرہ نے کی ہے۔ (تفصیل مسند احمد 3743 میں دیکھیں)۔
(4) "مسند الطيالسي" (314).
📖 حوالہ / مصدر: (4) "مسند الطیالسی" (314)۔
(1) بل أخرجه مسلم هكذا بذكر الجمعة من طريق زهير بإسناد الحاكم ومتنه، كما مرَّ في التخريج، أما ما أخرجاه بذكر العتمة وسائر الصلوات فهو من حديث أبي هريرة عند البخاري (644) و (657)، ومسلم (651).
🔍 علّت / فنی نکتہ: (1) بلکہ امام مسلم نے اسے "جمعہ" کے ذکر کے ساتھ ہی زہیر کی سند سے روایت کیا ہے، جبکہ عشاء اور دیگر نمازوں کا ذکر حضرت ابوہریرہ کی روایت میں بخاری و مسلم کے ہاں موجود ہے۔