🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. الأمر بصيام رمضان بشهادة رجل مسلم
ایک مسلمان مرد کی گواہی پر رمضان کے روزے رکھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1116
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْديّ، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكرِمة، عن ابن عباس، قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: أبصرتُ الهلالَ الليلةَ، فقال:"أتشهدُ أن لا إله إلا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه؟"، قال: نعم، قال:"قُمْ يا بلالُ فأذِّن في الناس فلْيصوموا" (1) . قد احتجَّ البخاريُّ بعكرمة، واحتج مسلمٌ بسماك، و
هذا حديث صحيح الإسناد متداوَلٌ بين الفقهاء، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1104 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے گزشتہ رات چاند دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت اور رسالت کی گواہی دیتے ہوئے یہ بات کہتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لوگوں میں اعلان کر دو کہ (کل سے) روزہ رکھیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، اور یہ حدیث فقہاء میں مشہور و معروف ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ کی اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سماک کی روایت نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1116]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1116 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ سماكًا في بعض رواياته عن عكرمة - وهو مولي ابن عباس - اضطراب، وقد اختلفوا عليه في هذا الحديث فروي عنه عن عكرمة مرسلًا، ورجَّحه غير واحد من الأئمة، لكن له شاهد يتقوى به كما سيأتي بيانه. زائدة: هو ابن قُدامة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: سماک کی عکرمہ سے روایات میں اضطراب ہے، بعض نے اسے مرسل کہا ہے مگر شواہد کی وجہ سے یہ قوی ہو جاتی ہے۔ زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1652) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، عن زائدة بن قدامة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1652) نے ابواسامہ عن زائدہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2340)، والترمذي (691) من طريق الوليد بن أبي ثور، عن سماك بن حرب، به. قال الترمذي: وروى سفيان الثوري وغيره عن سماك عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا، وأكثر أصحاب سماك رووا عن سماك عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2340) اور ترمذی (691) نے ولید بن ابی ثور عن سماک کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا کہ اکثر راویوں نے اسے مرسل ہی روایت کیا ہے۔
ورواية سفيان الثوري المرسلة عند النسائي في "الكبرى" وسيأتي تخريجها عند الحديث رقم (1558)، ورواه أبو داود من طريق حماد بن سلمة عن سماك عن عكرمة مرسلًا، وسيأتي تخريجه عند الحديث (1560).
📖 حوالہ / مصدر: سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ کی مرسل روایات آگے نمبر (1558) اور (1560) پر آئیں گی۔
وسيأتي الحديث أيضًا غير ما ذكرنا برقم (1557) من طريق حسين الجعفي عن زائدة.
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (1557) پر حسین الجعفی کے طریق سے بھی آئے گی۔
وله شاهد من حديث عبد الله بن عمر، سيأتي برقم (1555).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث (نمبر 1555) اس کی شاہد ہے۔
قال الترمذي: والعمل على هذا الحديث عند أكثر أهل العلم، قالوا: تُقبَل شهادة رجل واحد في الصيام، وبه يقول ابن المبارك والشافعي وأحمد وأهل الكوفة، قال إسحاق: لا يصام إلّا بشهادة رجلين، ولم يختلف أهل العلم في الإفطار أنه لا يقبل فيه إلّا شهادة رجلين.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ روزے (چاند دیکھنے) کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی کافی ہے، مگر عید (افطار) کے لیے دو گواہ ضروری ہیں۔