🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. دعاء رد البصر
نگاہ لوٹانے کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1194
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا شعبة، عن أبي جعفر المَديني قال: سمعت عُمارة بن خُزيمة يحدِّث عن عثمان بن حُنَيف: أنَّ رجلًا ضريرًا أتى النبيَّ ﷺ فقال: ادْعُ الله أن يُعافيَني، فقال:"إن شئت أخَّرتُ ذلك وهو خير، وإن شئتَ دعوتُ"، قال: فادْعُه، قال: فأمره أن يتوضأ فيُحسِنَ وُضوءَه ويصليَ ركعتين ويدعوَ بهذا الدعاء فيقول:"اللهمَّ إني أسألك وأتوجَّهُ إليك بنبيِّك محمدٍ نبيِّ الرَّحمة، يا محمدُ إني توجّهتُ بك إلى ربي في حاجتي هذه فتُقضَى لي، اللهمَّ شَفِّعْه فيَّ وشَفِّعني فيه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے عافیت (بینائی) عطا فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اسے مؤخر کر دوں جو تمہارے لیے بہتر ہے، اور اگر تم چاہو تو میں دعا کر دیتا ہوں، اس نے کہا: آپ دعا فرما دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے اور یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتُقْضَى لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِيهِ» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ رحمت کے نبی ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے ذریعے اپنے رب کی طرف اپنی اس ضرورت میں رجوع کیا ہے تاکہ میری یہ حاجت پوری ہو جائے، اے اللہ! میرے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش قبول فرما اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں میری گزارش قبول فرما۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1194]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1194 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وقد اختُلف في هذا الإسناد على أبي جعفر المديني، فرواه شعبةُ عنه عن عمارة بن خزيمة عن عثمان بن حنيف، كما عند الحاكم هنا وفيما سيأتي برقم (1930)، وتابع شعبةَ في هذا الإسناد حمادُ بنُ سلمة، كما سيأتي في التخريج.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوجعفر المدینی پر اختلاف ہوا ہے؛ شعبہ اور حماد بن سلمہ نے اسے عمارہ بن خزیمہ کے واسطے سے روایت کیا جیسا کہ یہاں اور نمبر (1930) پر ہے۔
وخالفهما رَوح بن القاسم - فيما سيأتي برقم (1950) و (1951) - فرواه عن أبي جعفر المديني عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن عمه عثمان بن حنيف. وتابع رَوحًا هشامٌ الدَّستُوائي، وسيأتي تخريج طريقه هناك.
⚠️ سندی اختلاف: روح بن قاسم (نمبر 1950) اور ہشام الدستوائی نے اسے ابوامامہ بن سہل کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وقد رجَّح أبو زُرعة رواية شعبة، كما في "العلل" لابن أبي حاتم (2064)، وخالفه ابنُ أبي حاتم فرجَّح رواية روح بن القاسم، لمتابعة هشام الدَّستُوائي له.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوزرعہ نے شعبہ کی روایت کو راجح قرار دیا، جبکہ ابن ابی حاتم نے ہشام کی متابعت کی وجہ سے روح کی روایت کو ترجیح دی۔
وسبَق ابنَ أبي حاتم إلى ذلك عليُّ بنُ المديني كما في "الدعاء" للطبراني (1052)، حيث ذكر رواية شعبة ورواية روح بن القاسم، ثم قال: ما أرى روحَ بن القاسم إلا قد حَفِظَه.
⚖️ درجۂ حدیث: علی بن المدینی کے نزدیک روح بن قاسم کی روایت زیادہ محفوظ ہے۔
قلنا: لا يبعد أن يكون كلٌّ منهما محفوظًا، ويكونَ أبو جعفر المديني قد سمعه من كلا الرجُلين: عُمارة وأبي أمامة، وكلٌّ منهما سمعه من عثمان بن حُنيف. على أنه إن كان الصحيحُ ذكرَ أحدِهما دون الآخر، فلا يضرُّ أيّهما كان، فكلاهما ثقة، والله أعلم.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: ممکن ہے ابوجعفر نے دونوں (عمارہ اور ابوامامہ) سے سنا ہو، اور دونوں ہی ثقہ ہیں، لہٰذا دونوں صورتیں درست ہو سکتی ہیں۔
شعبة: هو ابن الحجاج، وأبو جعفر المديني: هو الخَطْمي، واسمه: عمير بن يزيد
🔍 فنی نکتہ: شعبہ سے مراد ابن الحجاج اور ابوجعفر المدینی سے مراد الخطمی (عمیر بن یزید) ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17240). وأخرجه ابن ماجه (1385) عن أحمد بن منصور بن سيار، والترمذي (3578)، والنسائي (10420) عن محمود بن غيلان، ثلاثتهم (أحمد وابن سيار ومحمود) عن عثمان بن عمر، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب. ¤ ¤ وأخرجه أحمد (17241) عن روح بن عبادة، عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (17240/28)، ابن ماجہ (1385)، ترمذی (3578) اور نسائی نے عثمان بن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح غریب" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد (17242)، والنسائي (10419) من طريق حماد بن سلمة، عن أبي جعفر المديني، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (17242) اور نسائی نے حماد بن سلمہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔