🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. سجدة السهو قبل أن يسلم
سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1219
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الرَّبيع سليمان بن داود المَهْري، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عبد العزيز بن أبي حازم، عن الضَّحَّاك بن عثمان، عن الأعرج، عن عبد الله بن بُحَينة أنه قال: صلَّى لنا رسولُ الله ﷺ صلاةً من الصَّلوات، فقام من اثنتَين فسُبِّح به، فمضى حتى فَرَغَ من صلاته ولم يَبقَ إلّا السلام، سَجَدَ سجدتَين وهو جالس قبلَ أن يُسلِّم (1) .
هذا حديث مفسَّر صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی نماز میں دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے بیٹھنے کے بجائے) قیام کیا، لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلائی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جب نماز سے فارغ ہوئے اور صرف سلام باقی رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کیے۔
یہ مفصل حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1219]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1219 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، الضحاك بن عثمان وإن كان فيه كلام، قد توبع. الأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز، وصحابيه عبد الله بن بحينة: هو عبد الله بن مالك بن القشب، وبحينة أمه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ "حدیث صحیح" ہے؛ ضحاک بن عثمان کی متابعت موجود ہے۔ عبداللہ بن بحینہ کی نسبت ان کی والدہ کی طرف ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (22919) و (22920) و (22930) و (22932) و (22933)، والبخاري (829) و (830) و (1224) و (1225) و (1230) و (6670)، ومسلم (570)، وأبو داود (1034) و (1035)، وابن ماجه (1206) و (1207)، والترمذي (391)، والنسائي (601 - 605) و (607) و (767) و (768) و (1146) و (1147) و (1185)، وابن حبان (1938) و (1939) و (1941) و (2676 - 2680) من طرق عن عبد الرحمن الأعرج، بهذا الإسناد. فاستراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22919/38)، بخاری (829 وغیرہ)، مسلم (570)، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے عبدالرحمن الاعرج کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں بھی ان کا سہو ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (22931)، وابن حبان (2680) من طريقين عن ابن بحينة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور ابن حبان نے براہِ راست ابن بحینہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرج النسائي (600) من طرق عبد ربه بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن مالك بن بحينة: أنه صلى مع النبي ﷺ، فقام في الشفع الذي يريد أن يجلس فيه، فسبَّحنا، فمضى ثم سجد سجدتين. قال النسائي: هذا خطأ، والصواب: عبد الله بن مالك بن بحينة.
🔍 علّت / فنی نکتہ: نسائی (600) کی روایت میں "مالک بن بحینہ" کا نام غلطی ہے، درست "عبداللہ بن مالک بن بحینہ" ہے۔