🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. الدعاء الذى يشفي الله به مريضا لم يحضر أجله
وہ دعا جس کے ذریعے اللہ اس بیمار کو شفا دیتا ہے جس کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1288
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلِحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث بن سعد، عن زِيادةَ بن محمد الأنصاري، عن [محمد بن] (2) كعب القُرَظي، عن فَضَالة بن عُبيد: أَنَّ رجلين أقبلا يَلتمِسان [لأبيهما] (1) الشفاءَ من البول، فانطُلِقَ بهما إلى أبي الدرداء، فذَكَرا وجعَ أبيهما له، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ربَّنا (2) اللهُ الذي في السماء، تقدَّسَ اسمُك، أمرُك في السماء والأرض، كما رحمتُك في السماء فاجعلْ رحمتَك في الأرض، واغفِرْ لنا ذُنوبَنا وخطايانا، إنك ربُّ الطَّيِّبين، فأنزِلْ رحمةً من رحمتِكَ، وشِفاءً من شِفائك على هذا الوَجَع، فيَبرأُ إِن شاء الله تعالى" (3) . قد احتجَّ الشيخان بجميع رواة هذا الحديث غير زيادةَ بن محمد، وهو شيخٌ من أهل مصر قليل الحديث.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنے والد کے لیے پیشاب کی بندش سے شفا کی تلاش میں نکلے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر تکلیف کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ، تَقَدَّسَ اسْمُكَ، أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ، وَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَخطَايَانَا، إِنَّكَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ، فَأَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ، وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ، فَيَبْرَأُ» ہمارا رب اللہ ہے جو آسمان میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین میں نافذ ہے، جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے اسی طرح اپنی رحمت زمین میں بھی کر دے، اور ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرما، بیشک تو ہی پاکیزہ لوگوں کا رب ہے، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفا میں سے ایک شفا اس درد پر نازل فرما تاکہ یہ تندرست ہو جائے۔ تو وہ اللہ کے حکم سے تندرست ہو جائے گا۔
شیخین نے زیاد بن محمد کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جو کہ مصر کے ایک قلیل الحدیث شیخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1288]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1288 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) استدركناه من "تلخيص الذهبي" و"إتحاف المهرة" (16153)، ومن كتابي "الدعوات" (587) و "الأسماء والصفات" (892) كلاهما للبيهقي حيث رواه عن المصنف بهذا الإسناد والمتن.
🔍 فنی نکتہ: (2) ہم نے اسے "تلخیص الذہبی"، "اتحاف المہرہ" (16153) اور بیہقی کی کتب "الدعوات" (587) اور "الأسماء والصفات" (892) سے بحال کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے مصنف (حاکم) سے اسی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(1) هذه الزيادة من كتابي البيهقي.
📝 (توضیح): (1) یہ اضافہ امام بیہقی کی دونوں کتابوں سے لیا گیا ہے۔
(2) أُقحم هنا في المطبوع عبارة: "من اشتكى منكم شيئًا أو اشتكاه أخ له فليقل: ربنا" ولم ترد هذه العبارة في النسخ الخطية ولا في كتابي البيهقي، وسيأتي الحديث بهذه الزيادة برقم (7702) من طريق سعيد بن أبي مريم عن الليث بن سعد.
🔍 علّت / فنی نکتہ: (2) مطبوعہ نسخے میں یہاں یہ عبارت زبردستی شامل کر دی گئی تھی: "من اشتكى منكم شيئاً..." (تم میں سے جسے کوئی شکایت ہو...)۔ یہ عبارت نہ قلمی نسخوں میں ہے اور نہ بیہقی کی کتب میں۔ یہ حدیث اس اضافے کے ساتھ آگے نمبر (7702) پر آئے گی۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا، زيادة بن محمد قال فيه البخاري والنسائي وأبو حاتم: منكر الحديث، وقال ابن عدي: لا أعلم له إلّا حديثين أو ثلاثة، ومقدار ما له لا يتابع عليه، وقال ابن حبان: منكر الحديث جدًّا، يروي المناكير عن المشاهير، فاستحق الترك. قلنا: وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ زیاد بن محمد کے بارے میں امام بخاری، نسائی اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ وہ "منکر الحدیث" ہے؛ ابن عدی نے کہا کہ اس کی صرف دو تین حدیثیں ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔ علامہ ذہبی نے بھی تلخیص میں اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (3892) عن يزيد بن خالد بن موهب الرملي، والنسائي (10810) عن سعيد بن أبي مريم، كلاهما عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3892) اور نسائی (10810) نے لیث بن سعد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (10809) من طريق ابن وهب، عن الليث - قال النسائي: وذكر آخر قبله - عن زياد بن محمد، عن محمد بن كعب القرظي، عن أبي الدرداء. لم يذكر فيه فضالة بن عبيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10809) نے ابن وہب عن لیث کے طریق سے روایت کیا ہے، جس میں فضالہ بن عبید کا ذکر نہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (23957) من طريق أبي بكر بن عبد الله بن أبي مريم، عن الأشياخ، عن فضالة بن عبيد قال: علمني النبي ﷺ رقية … الحديث لم يذكر أبا الدرداء. وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم، ولإبهام الأشياخ. وانظر تمام تخريجه فيه.
⚖️ درجۂ حدیث: اسے احمد (23957/39) نے ابوبکر بن ابی مریم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ یہ سند ابوبکر کے ضعف اور اساتذہ (اشیاخ) کے مبہم ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔