🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. الماشي أمام الجنازة والراكب خلفها
جنازے کے آگے پیدل چلنے والا اور پیچھے سوار ہونے والا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1330
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن ثَوْبان: أنَّ النبي ﷺ شَيَّع جنازةً، فأُتي بدابّةٍ، فأبى أن يركبَها، فلمَّا انصرف أُتي بدابّةٍ فركبها، فقيل له، فقال:"إنَّ الملائكةَ كانت تمشي، فلم أكن لأركَبَ وهم يمشون، فلمَا ذهبوا - أو قال: عَرَجوا - رَكِبتُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بلفظٍ أشفَى من هذا:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری لائی گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سوار ہونے سے انکار کر دیا، پھر جب جنازے سے فارغ ہو کر واپس لوٹنے لگے تو سواری لائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، تو میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ وہ پیدل چلیں اور میں سوار ہو جاؤں، پھر جب وہ چلے گئے - یا فرمایا: اوپر چڑھ گئے - تو میں سوار ہو گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک ایسی شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کے الفاظ زیادہ واضح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1330]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1330 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات، وصحَّح إسناده ابن دقيق العيد في "الاقتراح" ص 448 - 449 على شرط الشيخين، وسكت عنه عبد الحق الإشبيلي في "الأحكام الوسطى" 2/ 136، ولم يتعقبه ابن القطان، وحسّن إسناده البزار فيما نقله عنه المنذري في "مختصر سنن أبي داود"، لكن قد أعله أبو حاتم كما في "العلل" لابنه 3/ 554 - 555 بأنَّ أبا سلمة ليس له رواية عن ثوبان وهو مولى رسول الله ﷺ فقال: هذا حديث خطأ، ليس الحديث من حديث أبي سلمة بن عبد الرحمن، وأبو سلمة عن ثوبان لا يجيء … ثم قال: ولا أعلم روى أبو سلمة عن ثوبان إلّا حديثًا يرويه أبو سعد البقال وهو حديث منكر - عن أبي سلمة، عن ثوبان، عن النبي ﷺ قال: "من شهد أن لا إله إلا الله … ". انتهى، وأبو سعد ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن دقیق العید نے اسے "شرطِ شیخین" پر صحیح کہا ہے، مگر ابوحاتم کے نزدیک یہ "غلط" ہے کیونکہ ابوسلمہ کا ثوبان رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔
وأخرجه أبو داود (3177) عن يحيى بن موسى البلخي، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3177) نے یحییٰ بن موسیٰ کی سند سے عبدالرزاق کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔