🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. التغليظ فى منع الزكاة
زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1451
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو صالح وابنُ بُكَير، قالا: حدثنا الليث، عن ابن عَجْلان، عن القَعْقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"يكون كنزُ أحدِكم يومَ القيامةِ شُجاعًا أقرَعَ ذا زَبِيبَتَين، يَتبَعُ صاحبَه، وهو يتعوَّذُ منه، فلا يَزالُ يَتبَعُه وهو يَفِرُّ منه حتى يُلقِمَه إصبَعَه" (2) . قد اتّفقَ الشيخان على إخراج حديث ابن مسعود وابن عُمَر في هذا الباب على سبيل الاختصار، في التغليظ المانع من الزكاة، غيرَ أنهما لم يخرجا حديث أبي هريرة وثَوْبان (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا خزانہ قیامت کے دن آنکھوں کے اوپر دو نشانوں والا گنجا سانپ بن کر اپنے مالک کے تعاقب میں آئے گا اور وہ اس سے پناہ مانگے گا۔ لیکن وہ مسلسل اس کے پیچھے پیچھے آئے گا اور یہ اس سے بھاگے گا یہاں تک کہ وہ اس کی انگلیوں کو کھا جائے گا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس باب میں اور زکوۃ نہ دینے والے پر سختی کرنے میں ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مختصر روایات نقل کی ہیں۔ تاہم انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ثوبان کی روایات نقل کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1451]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1451 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن عجلان: واسمه محمد وقد توبع. أبو صالح الراوي عن الليث: هو عبد الله بن صالح كاتب الليث، ومتابعه ابن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، والليث: هو ابن سعد، وأبو صالح الراوي عن أبي هريرة: هو ذكوان السمان.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) محمد بن عجلان کی وجہ سے سند قوی اور حدیث صحیح ہے۔ عبداللہ بن صالح اور یحییٰ بن بکیر اس کے ثقہ راوی ہیں۔ ابوصالح سے مراد ذکوان السمان ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8933)، والنسائي (11153)، وابن حبان (3258) من طريقين عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (8933/14)، نسائی اور ابن حبان نے لیث بن سعد کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وتابع القعقاعَ بن حكيم على رفعه عاصمُ بنُ أبي النجود عند أحمد 13/ (7756)، فرواه عن أبي صالح، به. ¤ ¤ ورواه عبد الله بن دينار عن أبي صالح، واختلف عليه فيه:
🧩 متابعات و شواہد: قعقاع کی تائید عاصم بن ابی النجود نے مسند احمد میں کی ہے۔ عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابوصالح سے روایت کیا ہے مگر ان کی روایت میں اختلاف ہے۔
فقد أخرجه أحمد 14/ (8661)، والبخاري (1403) و (4565)، والنسائي (2273) من طريق عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن أبيه، عن أبي صالح، به مرفوعًا.
⚖️ درجۂ حدیث: بخاری (1403) اور نسائی میں عبداللہ بن دینار کی روایت مرفوعاً مروی ہے۔
وخالفه مالك الإمام، فأخرجه في "الموطأ" 1/ 256 عن عبد الله بن دينار، عن أبي صالح، عن أبي هريرة موقوفًا. قال الدارقطني في "العلل" (1946): والموقوف أشبه بالصواب!
⚖️ درجۂ حدیث: امام مالک نے "موطأ" میں اسے موقوفاً (ابوہریرہ کا قول) روایت کیا ہے اور دارقطنی نے موقوف کو ہی صواب (درست) کہا ہے۔
وقد روي هذا الحديث مرفوعًا من أوجه عن أبي هريرة:
🧩 متابعات و شواہد: تاہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث کئی دیگر صحیح طریقوں سے مرفوعاً ثابت ہے:
فقد أخرجه أحمد 13/ (8185)، والبخاري (6957) من طريق همام، وأحمد 16/ (10855)، والبخاري (1402) و (4659)، والنسائي (2240) و (11152) من طريق عبد الرحمن الأعرج، وأحمد 16/ (10344) من طريق الحسن البصري، وابن ماجه (1786)، وابن حبان (3254) و (3261) من طريق عبد الرحمن بن يعقوب الحرقي، أربعتهم عن أبي هريرة، مرفوعًا.
📖 حوالہ / مصدر: ہمام، عبدالرحمن الاعرج (بخاری 1402)، حسن بصری اور عبدالرحمن الحرقی نے اسے ابوہریرہ سے مرفوعاً ہی روایت کیا ہے۔
(1) أما حديث ثوبان فنعم، وأما حديث أبي هريرة فقد سلف أنه قد أخرجه البخاري من أوجه عن أبي هريرة، وأما ابن مسعود وابن عمر فلم يتفق على إخراجهما الشيخان، بل لم يخرجهما أيٌّ منهما، فحديث ابن مسعود أخرجه أحمد 6/ (3577)، وابن ماجه (1784)، والترمذي (3012)، والنسائي (2233) و (11018) مرفوعًا، وإسناده صحيح، وسيأتي موقوفًا في "المستدرك" برقم (3207).
🔍 علّت / فنی نکتہ: (1) ثوبان اور ابوہریرہ کی روایات تو بخاری و مسلم میں ہیں، مگر ابن مسعود اور ابن عمر کی روایات ان دونوں نے روایت نہیں کیں۔ ابن مسعود کی روایت احمد اور ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے۔
وأما حديث ابن عمر فقد أخرجه أحمد 10/ (5729) و (6209) و (6448)، والنسائي (2272)، وإسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت مسند احمد (5729/10) اور نسائی میں صحیح سند سے موجود ہے۔
وفي الباب أيضًا عن جابر بن عبد الله، أخرجه أحمد 22/ (14442)، ومسلم (988)، والنسائي (2246)، وابن حبان (3255).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت مسلم (988) اور نسائی میں موجود ہے۔
وانظر تتمة أحاديث الباب في التعليق على حديث ابن مسعود في "المسند" (3577)
🔍 فنی نکتہ: اس باب کی مزید تفصیل مسند احمد (3577) پر ہمارے حاشیہ میں دیکھیں۔