المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. التغليظ فى منع الزكاة
زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1452
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْرُ بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي يحيى سُلَيم بن عامر الكَلَاعي، قال: سمعتُ أبا أُمامةَ يقول: قام رسولُ الله ﷺ فينا في حَجَّةِ الوداع وهو على ناقتِه الجَدْعاء، قد جَعَلَ رِجلَيه في غَرْزَي الرِّكاب، يَتَطاوَل ليُسمِعَ الناس، فقال:"ألا تَسْمَعُون صوتي؟"، فقال رجلٌ من طوائف الناس: فما تَعهَدُ إلينا؟ فقال:"اعبُدوا ربَّكم، وصَلُّوا خَمْسَكم، وصُومُوا شهرَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وأَطِيعُوا ذا أَمرِكم، تدخُلُوا جنَّةَ ربِّكم". قال: قلتُ: يا أبا أمامة، فمِثلُ مَن أنتَ يومئذٍ؟ قال: أنا يا ابنَ أخي يومئذٍ ابنُ ثلاثين سنةً، أُزاحِمُ البعيرَ أُزَحزِحُه قُربًا إلى رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی جدعا اونٹنی پر کھڑے تھے۔ آپ اس کی رکابوں میں دونوں پاؤں ڈال کر اونچے ہو کر بلند آواز سے کہہ رہے تھے: کیا تم لوگ میری آواز سن رہے ہو؟ ایک شخص نے کہا: آپ ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو گے۔ (ابویحیی بن عامر کلاعی کہتے ہیں) میں نے کہا: اے ابوامامہ! اس دن تمہاری عمر کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا: اے میرے بھتیجے! اس دن میں تیس سال کا نوجوان تھا (اور اتنا طاقت ور تھا کہ) اونٹ سے لڑتا تھا تو اسے بھی پچھاڑ دیتا تھا، (یہ سب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب (کی برکت) سے (تھا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1452]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1452 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وسيأتي من طريق زيد بن الحباب عن معاوية بن صالح برقم (1759)، ويأتي تخريجه من هذه الطريق هناك.
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (1759) پر زید بن الحباب عن معاویہ بن صالح کی سند سے دوبارہ آئے گی۔
وسلف من طريق سعيد بن أبي مريم عن معاوية بن صالح برقم (19).
🔁 تکرار: یہ پہلے نمبر (19) پر سعید بن ابی مریم کی سند سے گزر چکی ہے۔