المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. التَّغْلِيظُ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1450
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن سالم بن أبي الجَعْد الغَطَفاني، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري، عن ثَوْبان قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن تَرَكَ بعدَه كَنزًا، مُثِّل له يومَ القيامة شُجاعًا أقرَعَ له زَبِيبتان، يَتْبَعُ فَاهُ، فيقول: وَيلَكَ ما لكَ؟ فيقول: أنا كنزُك الذي تَركتَه بعدَك، فلا يزال يَتبعُه حتى يُلْقِمَه يدَه فيَقْضَمُها، ثم يُتبِعُه سائرَ جسدِه" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه أيضًا:
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه أيضًا:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے بعد خزانہ چھوڑے، قیامت کے دن وہ خزانہ اس کے لیے گنجا سانپ بن کر آئے گا، جس کی آنکھ پر دو سیاہ نشان ہوں گے اور وہ منہ کھولے ہوئے اپنے مالک کے پیچھے آئے گا، اور اس سے کہے گا: تیرے لیے ہلاکت ہو، میں تیرا خزانہ ہوں جس کو تو اپنے بعد چھوڑ آیا ہے، وہ سانپ مسلسل اس کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ وہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے لے گا اور چبائے گا پھر اس کا پورا جسم نگل لے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے وہ بھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1450]
حدیث نمبر: 1451
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو صالح وابنُ بُكَير، قالا: حدثنا الليث، عن ابن عَجْلان، عن القَعْقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"يكون كنزُ أحدِكم يومَ القيامةِ شُجاعًا أقرَعَ ذا زَبِيبَتَين، يَتبَعُ صاحبَه، وهو يتعوَّذُ منه، فلا يَزالُ يَتبَعُه وهو يَفِرُّ منه حتى يُلقِمَه إصبَعَه" (2) . قد اتّفقَ الشيخان على إخراج حديث ابن مسعود وابن عُمَر في هذا الباب على سبيل الاختصار، في التغليظ المانع من الزكاة، غيرَ أنهما لم يخرجا حديث أبي هريرة وثَوْبان (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا خزانہ قیامت کے دن آنکھوں کے اوپر دو نشانوں والا گنجا سانپ بن کر اپنے مالک کے تعاقب میں آئے گا اور وہ اس سے پناہ مانگے گا۔ لیکن وہ مسلسل اس کے پیچھے پیچھے آئے گا اور یہ اس سے بھاگے گا یہاں تک کہ وہ اس کی انگلیوں کو کھا جائے گا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس باب میں اور زکوۃ نہ دینے والے پر سختی کرنے میں ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مختصر روایات نقل کی ہیں۔ تاہم انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ثوبان کی روایات نقل کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1451]
حدیث نمبر: 1452
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْرُ بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي يحيى سُلَيم بن عامر الكَلَاعي، قال: سمعتُ أبا أُمامةَ يقول: قام رسولُ الله ﷺ فينا في حَجَّةِ الوداع وهو على ناقتِه الجَدْعاء، قد جَعَلَ رِجلَيه في غَرْزَي الرِّكاب، يَتَطاوَل ليُسمِعَ الناس، فقال:"ألا تَسْمَعُون صوتي؟"، فقال رجلٌ من طوائف الناس: فما تَعهَدُ إلينا؟ فقال:"اعبُدوا ربَّكم، وصَلُّوا خَمْسَكم، وصُومُوا شهرَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وأَطِيعُوا ذا أَمرِكم، تدخُلُوا جنَّةَ ربِّكم". قال: قلتُ: يا أبا أمامة، فمِثلُ مَن أنتَ يومئذٍ؟ قال: أنا يا ابنَ أخي يومئذٍ ابنُ ثلاثين سنةً، أُزاحِمُ البعيرَ أُزَحزِحُه قُربًا إلى رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی جدعا اونٹنی پر کھڑے تھے۔ آپ اس کی رکابوں میں دونوں پاؤں ڈال کر اونچے ہو کر بلند آواز سے کہہ رہے تھے: کیا تم لوگ میری آواز سن رہے ہو؟ ایک شخص نے کہا: آپ ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو گے۔ (ابویحیی بن عامر کلاعی کہتے ہیں) میں نے کہا: اے ابوامامہ! اس دن تمہاری عمر کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا: اے میرے بھتیجے! اس دن میں تیس سال کا نوجوان تھا (اور اتنا طاقت ور تھا کہ) اونٹ سے لڑتا تھا تو اسے بھی پچھاڑ دیتا تھا، (یہ سب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب (کی برکت) سے (تھا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1452]
حدیث نمبر: 1453
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عمرو بن الرَّبِيع بن طارق، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا عُبيد الله بن أبي جعفر، أنَّ محمد بن عمرو بن عطاء أخبره، عن عبد الله بن شداد بن الهاد قال: دخلنا على عائشةَ زوجِ النبي ﷺ، فقالت: دَخَلَ عليَّ رسولُ الله ﷺ فرأى في يدي سِخابًا من وَرِقٍ، فقال:"ما هذا يا عائشةُ؟" فقلت: صَنَعتُهنَّ أتزيَّنُ لك فيهنَّ يا رسول الله، فقال:"أتؤدِّين زكاتَهنَّ؟" فقلتُ: لا، أو ما شاء الله من ذلك، قال:"هي حَسْبُكِ من النار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن شداد بن الھاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ (ام المؤمنین) عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انہوں نے فرمایا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، انہوں نے میرے ہاتھ میں چاندی کا ایک ہار دیکھا تو پوچھا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ اس لیے بنوایا ہے تاکہ یہ پہن کر آپ کے لیے زینت اختیار کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا: نہیں یا جو اس میں سے اللہ چاہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے جہنمی ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1453]
حدیث نمبر: 1454
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبةَ أحمدُ بن الفَرَج، حدثنا عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار، حدثنا محمد بن مُهاجِر، عن ثابت بن عَجْلان، حدثنا عطاء، عن أُم سَلَمة: أنها كانت تَلبَس أَوْضاحًا من ذهب، فسألَتْ عن ذلك النبيَّ ﷺ فقالت: أكَنزٌ هو؟ فقال:"إذا أدَّيتِ زكاتَه، فليسَ بكَنْز" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا عطا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سونے کی پازیبیں پہنا کرتی تھیں۔ انہوں نے ان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی زکوۃ ادا کر دے گی تو یہ کنز (کے حکم میں) نہیں رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1454]
حدیث نمبر: 1455
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن المُهاجِر، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"إذا أدّيتَ زكاةَ مالِكَ، فقد أذهبتَ عنكَ شرَّه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده صحيحٌ من حديث المِصْريِّين:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده صحيحٌ من حديث المِصْريِّين:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تو اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دے تو تو نے اس کے نقصانات کو ختم کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ مصریوں سے مروی ہے۔ (جیسا کہ درجِ ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1455]