المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. مَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالٍ حَرَامٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ
جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا بلکہ اس کا وبال اسی پر رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 1458
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أحمد بن سَلَمة وإبراهيم بن أبي طالب، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَّاد بن سلمة، قال: أخذْنا هذا الكتاب من ثُمامةَ بن عبد الله بن أنس، يُحدِّثُه عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ، ثم ذكر الحديث بنحوٍ من حديث موسى بن إسماعيل عن حماد بطوله (1) . ولهذه الألفاظ شاهدٌ من حديث الزُّهري عن سالم عن أبيه:
ثمامہ بن عبداللہ بن انس، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوٰۃ کے بارے میں مذکورہ بالا طویل حدیث روایت کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أحمد بن سلمة: هو ابن عبد الله أبو الفضل النيسابوري، وإسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه. وانظر ما قبله.» [ترقيم الرساله 1458] [ترقيم الشركة 1446]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1458 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أحمد بن سلمة: هو ابن عبد الله أبو الفضل النيسابوري، وإسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه. وانظر ما قبله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: احمد بن سلمہ سے مراد ابن عبداللہ ابو الفضل النیشاپوری ہیں، اور اسحاق بن ابراہیم سے مراد ابن راہویہ ہیں۔ اور اس سے ماقبل (گزشتہ روایت) کو ملاحظہ کریں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1458 in Urdu