🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. مَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالٍ حَرَامٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ
جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا بلکہ اس کا وبال اسی پر رہتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1456
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا ابن وَهْب، عن عمرو بن الحارث، عن دَرَّاجٍ أبي السَّمْح، عن ابن حُجَيرةَ الأكبرِ الخَوْلاني، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أدَّيتَ الزكاةَ فقد قَضَيتَ ما عليكَ، ومَن جَمَعَ مالًا حرامًا ثم تصدَّق به، لم يكن له فيه أجرٌ، وكان إصْرُه عليه" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تو زکوۃ ادا کر دے تو تُو نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور جو شخص مالِ حرام جمع کرے پھر اس کا صدقہ کر دے، اس کو اس میں کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ بلکہ اس پر الٹا اس کا وبال ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1456]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1457
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيدٍ الدَّارِمي. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، وهشام بن عليٍّ، قالوا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، قال: أخذتُ من ثُمَامة بن عبد الله بن أنس كتابًا زَعَمَ أنَّ أبا بكرٍ كَتَبَه لأنسٍ، وعليه خاتَمُ رسول الله ﷺ حين بَعثَه مُصَدِّقًا، وكتبه له، فإذا فيه: هذه فريضةُ الصَّدَقةِ التي فَرَضَها رسولُ الله ﷺ على المسلمين التي أمَرَ اللهُ بها نبيَّه ﷺ فمن سُئِلها على وَجْهِها فليُعْطِها، ومن سُئِل فوقَها (2) فلا يُعطِه. فيما دونَ خَمسٍ وعشرين من الإبل الغنمُ؛ وفي كلِّ ذَوْدٍ شاةٌ، فإذا بَلَغَتْ خمسًا وعشرين ففيها ابنةُ مَخَاضٍ إلى أن تبلُغَ خمسًا وثلاثين، فإن لم يكن فيها ابنةُ مَخَاضٍ فابنُ لَبُونٍ ذكرٌ، فإذا بلغتْ ستًّا وثلاثين ففيها ابنةُ لَبُونٍ إلى خمسٍ وأربعين، فإذا بلغت ستًّا وأربعين ففيها حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الفَحْل إلى ستين، فإذا بلغتْ إحدى وستين ففيها جَذَعةٌ إلى خمس وسبعين، فإذا بلغتْ ستًّا وسبعين ففيها ابنتا لَبُونٍ إلى تسعين، فإذا بلغتْ إحدى وتسعين ففيها حِقَّتانِ طَرُوقتا الفَحْلِ إلى عشرين ومئة، فإذا زادتْ على عشرين ومئة ففي كلِّ أربعينَ ابنةُ لبونٍ وفي كلِّ خمسين حِقَّةٌ. فإذا تبايَنَ أسنانُ الإبل في فرائض الصَّدقات، فمَن بلغتْ عنده صدقةُ الجَذَعة وليست عنده جَذَعةٌ، وعنده حِقَّةٌ فإنها تُقبَلُ منه، وأن يَجعَلَ معها شاتين إن استَيْسَرَتا له، أو عشرين درهمًا، ومَن بلغتْ عنده صدقةُ الحِقَّة وليست عنده حِقَّة وعنده جَذَعةٌ فإنها تُقبَلُ منه، ويُعطيهِ المصَدِّقُ عشرين درهمًا أو شاتين، ومَن بلغتْ عنده صدقةُ بنتِ لبونٍ وليست عنده إلّا حِقَّةٌ فإنها تُقبَلُ منه، ويُعطيهِ المصَدِّق عشرين درهمًا أو شاتين، ومن بلغتْ عنده صدقةُ بنتِ لبونٍ وليس عنده إلّا ابنةُ مَخَاضٍ فإنها تُقبَلُ منه وشاتين أو عشرين درهمًا، ومن بلغتْ عنده صدقةُ بنتِ مَخاضٍ وليس عنده إلّا ابنُ لَبونٍ ذكرٌ فإنه يُقبَل (1) منه وليس معه شيءٌ، ومن لم يكن عنده إلّا أربعٌ فليس فيها شيءٌ إلّا أن يشاء ربُّها. وفي سائِمةِ الغَنَم إذا كانت أربعينَ ففيها شاةٌ إلى عشرين ومئة، فإذا زادت على عشرين ومئة ففيها شاتانِ إلى أن تَبلُغ مئتين، فإذا زادت على المئتين ففيها ثلاثُ شِياهٍ إلى أن تَبلُغ ثلاثَ مئة، فإذا زادت على ثلاث مئة ففي كلِّ مئةٍ شاةٌ. ولا تُؤخَذُ فِي الصَّدقةِ هَرِمةٌ ولا ذاتُ عَوَارٍ من الغَنَم، ولا تَيْسُ الغَنَم إلّا أن يشاء المصَّدِّق. ولا يُجمَعُ بين متفرِّقٍ ولا يُفرَّقُ بين مُجتَمِعٍ خشيةَ الصدقة، وما كانا من خَليطَين فإنَّهما يتراجعانِ بينهما بالسَّوِيَّة، فإن لم تَبلُغْ سائمةُ الرجلِ أربعينَ فليس فيها شيءٌ إلّا أن يشاء ربُّها. وفي الرِّقَةِ رُبعُ العُشْر، فإن لم يكن المالُ إلّا تسعين ومئةً فليس فيها شيءٌ إلّا أن يشاء ربُّها (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما تفرَّد بإخراجه البخاري من وجهٍ عَلَا فيه عن الأنصاري عن ثُمامةَ بن عبد الله، وحديث حماد بن سلمة أصحُّ وأشفَى وأتمُّ من حديث الأنصاري.
سیدنا حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ سے ایک کتاب لی جس کے بارے میں ثمامہ کا گمان ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو جب مصدق (زکوۃ وصول کرنے والا) بنا کر بھیجا تھا تب ان کے لیے تحریر کی تھی اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر بھی موجود تھی اور اس کی تحریر یہ تھی: یہ فریضۂ زکوۃ ہے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، لہٰذا مسلمانوں میں سے جس شخص سے اس کے مطابق زکوۃ طلب کی جائے وہ دے اور جس سے اس سے زیادہ زکوۃ مانگی جائے وہ نہ دے (زکوۃ کی تفصیل یہ ہے): پچیس سے کم اونٹوں میں بکریاں دی جائیں گی۔ (اس طرح کہ چار اونٹوں میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ سے اوپر) ہر پانچ اونٹوں کے بدلے میں ایک بکری۔ جب اونٹوں کی تعداد پچیس تک پہنچ جائے تو اس میں اونٹ کی ایک سالہ بچی اور یہ تعداد پینتیس تک پہنچے گی اور اس صورت میں اگر ان میں کوئی ایک سالہ بچی نہ ہو تو دو سالہ بچہ۔ جب یہ تعداد چھتیس تک پہنچے تو اس میں اونٹ کی دو سالہ بچی 45 تک۔ جب تعداد 46 تک پہنچے تو اس میں تین سالہ جوان اونٹنی 60 تک۔ جب ان کی تعداد 16 تک پہنچے تو ان میں چار سالہ اونٹنی، 75 تک۔ جب تعداد 76 تک پہنچے تو ان میں 2 دو سالہ اونٹنیاں 90 تک۔ جب تعداد 91 تک پہنچے تو ان میں تین سالہ جوان 2 اونٹنیاں 120 تک۔ جب یہ تعداد 121 تک پہنچے تو اس کے بعد ہر چالیس اونٹوں کے بدلے، اونٹنی کا یکسالہ ایک بچہ اور ہر پچاس اونٹوں میں ایک تین سالہ اونٹنی۔ جب اونٹ کے دانت ظاہر ہو جائیں فرائضِ صدقات میں، تو جس شخص کے پاس اونٹ اتنی تعداد میں ہوں کہ اس پر چار سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس کوئی چار سالہ اونٹنی نہ ہو تو وہ تین سالہ اونٹنی دے دے، اس کی طرف سے یہ قبول کر لی جائے گی۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ اگر میسر ہو تو اس کے ہمراہ دو بکریاں یا 20 درہم بھی دے۔ جس کے پاس اونٹ اتنی تعداد میں ہوں کہ اس پر تین سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس تین سالہ بچہ نہ ہو بلکہ چار سالہ ہو تو اس سے یہ چار سالہ بچہ قبول کر لیا جائے گا اور وصول کنندہ اس کو دو بکریاں یا 20 درہم دے گا۔ جس کے پاس اتنی تعداد ہو کہ اس پر اونٹنی کا دو سالہ بچہ واجب ہوتا ہو لیکن اس کے پاس دو سالہ بچہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس تین سالہ اونٹنی ہو، تو اس سے وہ قبول کر لی جائے گی۔ اور زکوۃ وصول کنندہ اس کو 20 درہم یا 2 بکریاں دے گا۔ اور جس کے پاس اونٹ اتنی تعداد میں ہوں کہ اس پر دو سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس اونٹنی کا یکسالہ بچہ ہو تو اس سے وہ قبول کر لیا جائے گا اور اس کے ہمراہ دو بکریاں یا 20 درہم بھی وصول کیے جائیں گے۔ جس کے ہاں اتنی تعداد ہو کہ اس پر یکسالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس دو سالہ بچہ ہو، تو اس سے وہ لے لیا جائے گا لیکن اس کے ہمراہ اور کچھ نہیں ہو گا۔ جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، اس پر ان میں زکوۃ واجب نہیں ہے۔ مگر یہ کہ ان کا مالک اپنی مرضی سے جو کچھ دینا چاہے۔ خود رو گھاس وغیرہ چرنے والے بھیڑ بکریاں جب چالیس ہوں تو ان میں ایک بکری واجب ہے 120 تک۔ جب ان کی تعداد 120 سے بڑھ جائے تو ان میں 2 بکریاں واجب ہیں 200 تک۔ جب تعداد 200 سے زائد ہو تو تین بکریاں ہیں 300 تک۔ رجب 300 سے زائد ہوں تو ہر 100 میں ایک بکری واجب ہے۔ اور صدقہ میں بوڑھا اور کانا جانور قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور نہ ہی پورے ریوڑ کو بکرا قرار دیا جائے گا۔ اور جو جانور دو شریکوں کے درمیان مشترک ہوں تو ان دونوں سے برابر برابر وصولی کی جائے گی۔ اور اگر کسی شخص کی خودرو گھاس چرنے والی بھیڑ بکریاں چالیس سے کم ہوں تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے، اِلّا یہ کہ ان کا مالک ازخود کچھ دینا چاہے اور چاندی کے درہموں میں عشر کا چوتھا حصہ (یعنی اڑھائی فیصد) ہے۔ اور اگر مال صرف 901 درہم ہو تو اس میں کچھ واجب نہیں ہے۔ اِلّا یہ کہ اس کا مالک ازخود کچھ دینا چاہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ایک دوسری سند کے ہمراہ ثمامہ بن عبداللہ سے روایت کیا ہے اور اس روایت میں وہ منفرد ہیں۔ جبکہ حماد بن سلمہ کی روایت زیادہ صحیح اور جامع ہے اور انصاری کی حدیث سے زیادہ کامل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1457]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1458
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أحمد بن سَلَمة وإبراهيم بن أبي طالب، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَّاد بن سلمة، قال: أخذْنا هذا الكتاب من ثُمامةَ بن عبد الله بن أنس، يُحدِّثُه عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ، ثم ذكر الحديث بنحوٍ من حديث موسى بن إسماعيل عن حماد بطوله (1) . ولهذه الألفاظ شاهدٌ من حديث الزُّهري عن سالم عن أبيه:
سیدنا حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ کتاب ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ سے لی ہے جس کو وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد موسیٰ بن اسماعیل کی حماد سے روایت کردہ طویل حدیث جیسی حدیث ذکر کی ہے۔ ٭٭ ان الفاظ کی ایک شاہد حدیث موجود ہے جو زہری نے سالم کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1458]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1459
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفيلي، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن سالم، عن أبيه قال: كَتَبَ رسول الله ﷺ كتابَ الصدقة، فلم يُخرِجْه إلى عُمَّاله حتى قُبِض، فقَرَنَه بسيفه، فعَمِل به أبو بكر حتى قُبِض، ثم عَمِل به عمرُ حتى قُبِض، فكان فيه: في خمس من الإبل شاةٌ، وفي عشَرةٍ شاتان، وفي خمسَ عَشْرةَ ثلاثُ شِياه، وفي عشرين أربعُ شِياه، وفي خمسٍ وعشرين بنتُ مَخَاض إلى خَمسٍ وثلاثين، فإذا زادت واحدةً ففيها بنتُ لَبونٍ إلى خمسٍ وأربعين، فإذا زادت واحدةً ففيها حِقَّة إلى ستين، فإذا زادت واحدةً ففيها جَذَعة إلى خمسٍ وسبعين، فإذا زادت واحدةً ففيها بنتا لَبونٍ إلى تسعين، فإذا زادت واحدةً ففيها حِقَّتان إلى عشرين ومئة، فإن كانت الإبلُ أكثرَ من ذلك ففي كلِّ خمسين حِقَّةٌ، وفي كلِّ أربعين بنتُ لَبون. وفي الغنم في كلِّ أربعين شاةً شاةٌ إلى عشرين ومئة، فإذا زادت واحدةً فشاتان إلى مئتين، فإذا زادت واحدةً على المئتين ففيها ثلاثُ شِياه إلى ثلاث مئة، فإن كانت الغنم أكثرَ من ذلك ففي كل مئة شاةٍ شاةٌ، وليس فيها شيءٌ حتى تَبلُغَ المئةَ. ولا يُفرَّق بين مُجتَمِع، ولا يُجمَع بين متفرِّقٍ مخافةَ الصدقة، وما كان من خَليطَينِ فإنهما يتراجعان بالسَّوِيّة. ولا يُؤخَذ في الصدقة هَرِمةٌ ولا ذاتُ عيبٍ. قال الزهري: إذا جاء المصَدِّقُ قُسِمت الشاءُ أثلاثًا: ثلثًا شِرارٌ، وثلثًا خِيارٌ، وثلثًا وَسَطٌ (1) ، فيأخذُ المصَدِّقُ من الوسط. ولم يَذكُر الزهريُّ البقر (2) .
هذا حديث كبيرٌ في هذا الباب، يشهد بكثرة الأحكام التي في حديث ثُمامة عن أنس، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا لسفيان بن حسين الواسطي في الكتابين، وسفيان ابن حسين أحد أئمة الحديث، وثَّقه يحيى بن معين، ودخل خُرَاسان مع يزيد بن المهلَّب، ودخل نيسابورَ، سمع منه جماعةٌ من مشايخنا القَهَنْدَزِيُّون، مثل مُبشِّر بن عبد الله بن رَزِين وأخيه عمر بن عبد الله وغيرهما، ويُصحِّحه على شرط الشيخين حديثُ عبد الله بن المبارك عن يونس بن يزيد عن الزُّهري، وإن كان فيه أدنى إرسالٍ فإنه شاهدٌ صحيح لحديث سفيان بن حسين:
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے متعلق ایک تحریر لکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی تلوار کے ساتھ باندھ کر رکھ دیا تھا۔ وہ ابھی آپ نے اپنے عمال کے حوالے نہیں کی تھی کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ساری زندگی اسی پر عمل کرتے رہے۔ اس میں (زکوۃ کا یہ طریقہ کار درج تھا): پانچ اونٹوں میں ایک بکری۔ دس اونٹوں میں دو بکریاں۔ پندرہ میں تیبن۔ بیس میں چار بکریاں ہیں۔ 25 اونٹوں میں اونٹنی کی ایک سالہ ایک بچی 35 تک۔ 35 سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں اونٹنی کی دو سالہ ایک بچی 45 تک۔ اگر اس سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں تین سالہ اونٹنی 60 تک۔ اگر اس سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں چار سالہ اونٹنی 75 تک۔ اگر اس سے ایک زیادہ ہو تو ان میں دو سالہ دو اونٹنیاں 90 تک۔ اگر ان سے ایک زیادہ ہو تو ان میں تین سالہ دو اونٹنیاں 120 تک۔ اگر اونٹ اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک 3 سالہ اونٹنی اور ہر چالیس میں ایک 2 سالہ اونٹنی۔ بھیڑ بکریوں میں ہر 40 میں ایک بکری 120 تک۔ اگر ان سے ایک بھی زائد ہو جائے تو دو بکریاں 200 تک۔ جب 200 سے زیادہ ہو تو ان میں 3 بکریاں 300 تک۔ اگر بھیڑ بکریاں اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر 100 میں ایک بکری۔ ان میں اس وقت تک کوئی چیز لازم نہیں ہے، جب تک تعداد (اگلے) 100 تک نہ پہنچ جائے۔ اور صدقہ کے خوف سے مجتمع کو متفرق نہ کیا جائے اور متفرق و مجتمع نہ کیا جائے اور جس چیز میں دو آدمی شریک ہوں تو دونوں کے ذمہ برابر زکوۃ ہے اور زکوۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور قبول نہ کیا جائے گا۔ ٭٭ امام زہری کہتے ہیں: جب زکوۃ وصول کرنے والا آئے تو بکریوں کے تین حصے کیے جائیں، ایک حصہ عیب دار بکریوں کا ایک عمدہ اور ایک میں درمیانی۔ زکوۃ وصول کرنے والا درمیانی حصے سے وصول کرے۔ زہری نے اپنی روایت میں گائے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ حدیث اس باب میں بہت بڑی حدیث ہے جس سے ان کثیر احکام پر شہادت ملتی ہے، جو ثمامہ کی انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں موجود ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سفیان بن حسین واسطی کی وجہ سے یہ حدیث اپنی کتابوں میں نقل نہیں کی۔ حالانکہ سفیان بن حسین ائمہ حدیث میں سے ایک ہیں۔ یحیی بن معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے یزید بن مہلب کے ہمراہ خراسان میں آئے اور وہاں سے نیشاپور گئے، ہمارے قہندری مشائخ میں سے ایک جماعت نے ان سے حدیث کا سماع کیا ہے، مثلاً مبشر بن عبداللہ بن رزین اور ان کے بھائی عمر بن عبداللہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم اور اس کو عبداللہ بن مبارک کی وہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر صحیح کرتی ہے جس کو انہوں نے یونس بن یزید کے واسطے سے زہری سے روایت کیا ہے، اس میں اگرچہ تھوڑا سا ارسال موجود ہے لیکن یہ سفیان بن حسین کی حدیث کے لئے صحیح شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1459]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1460
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي وأبو بكر محمد بن أحمد المزكِّي المَروَزِيَّان بمَرْو، قالا: أخبرنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو، أخبرنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرني يونس بن يزيد. وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن ابن شِهابٍ قال: هذه نسخةُ كتاب رسول الله ﷺ التي كَتَبَ الصدقةَ، وهو عند آل عمر بن الخطاب. قال ابن شهاب: أقرأَنيها سالمُ بن عبد الله بن عمر فوَعَيتُها على وجهها، وهي التي انتَسَخَ عمرُ بن عبد العزيز من عبدِ الله بن عبد الله بن عمر وسالمِ بن عبد الله حين أُمِّر على المدينة، فأمر عُمَّاله بالعمل بها [وكتب بها إلى الوليد بن عبد الملك، فأمر الوليدُ عمَّاله بالعمل بها] (1) ثم لم تَزَلْ في الخلفاء يأمرون بذلك بعدَه، ثم أَمَر بها هشامٌ فنَسَخها إلى كلِّ عامل من المسلمين، وأَمَرهم بالعمل بما فيها ولا يتعدَّونها، وهذا كتابٌ تفسيره: لا يوجد (2) في شيءٍ من الإبل الصدقةُ حتى تَبْلُغَ خمسَ ذَوْدٍ، فإذا بلغت خمسًا ففيها شاةٌ حتى تبلغ عشرًا، فإذا بلغت عشرًا ففيها شاتان حتى تبلغ خمسَ عشْرةَ، فإذا بلغت خمسَ عشْرةَ ففيها ثلاثُ شِياهٍ حتى تبلغ عشرين، فإذا بلغت عشرين ففيها (3) أربع شياهٍ حتى تبلغ خمسًا وعشرين، فإذا بلغت خمسًا وعشرين أَفرَضَتْ، فكان فيها فَريضةٌ بنتُ مَخاضٍ، فإن لم يوجد بنتُ مخاضٍ فابن لَبُونٍ ذكرٌ حتى تبلغ خمسًا وثلاثين، فإذا بلغت ستًّا وثلاثين ففيها بنتُ لَبون حتى تبلغ خمسًا وأربعين، فإذا كانت ستًّا وأربعين ففيها حِقَّةٌ طَرُوقةُ الجَمل حتى تبلغ ستين، فإذا كانت إحدى وستين ففيها جَذَعةٌ حتى تبلغ خمسًا وسبعين، فإذا بلغت ستًّا وسبعين ففيها بنتا لَبونٍ (4) حتى تبلغ تسعين، فإذا كانت إحدى وتسعين ففيها حِقَّتان طَرُوقتا الجمل حتى تبلغ عشرين ومئة، فإذا كانت إحدى وعشرين ومئة ففيها ثلاثُ بناتِ لَبونٍ حتى تبلغ تسعًا وعشرين ومئة، فإذا كانت ثلاثين ومئة ففيها حِقَّةٌ وبنتا لبونٍ (1) حتى تبلغ تسعًا وثلاثين ومئة، فإذا كانت أربعينَ ومئة ففيها حِقَّتانِ وبنتُ لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وأربعين ومئة، فإذا كانت خمسين ومئة ففيها ثلاثُ حِقاقٍ حتى تبلغ تسعًا وخمسين ومئة، فإذا بلغت ستين ومئة ففيها أربعُ بناتِ لبون حتى تبلغ تسعًا وستين ومئة، فإذا كانت سبعين ومئة ففيها حِقَّة وثلاثُ بناتِ لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وسبعين ومئة، فإذا كانت ثمانين ومئة ففيها حِقَّتان وبنتا لبونٍ [حتى تبلغ تسعًا وثمانين ومئة] (2) ، فإذا كانت تسعين ومئة ففيها ثلاثُ حِقاقٍ وبنتُ (3) لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وتسعين ومئة، فإذا كانت مئتين ففيها أربعُ حِقاقٍ أو خمسُ بناتِ لبونٍ، أيُّ السِّنَّينِ [وُجدت] (4) فيها أُخِذَت على عِدَّة ما كَتبْنا في هذا الكتاب، ثم كلُّ شيءٍ من الإبل على ذلك يُؤخَذ على نحو ما كتبنا في هذا الكتاب. ولا يُؤخَذ من الغنم صدقةٌ حتى تبلغ أربعين شاةً، فإذا بلغت أربعين شاةً ففيها شاةٌ حتى تبلغ عشرين ومئة، فإذا كانت إحدى وعشرين ومئة ففيها شاتان حتى تبلغ مئتين، فإذا كانت شاةً ومئتين ففيها ثلاث شياهٍ حتى تبلغ ثلاث مئة، فإذا زادت على ثلاث مئة شاةٍ فليس فيها إلّا ثلاثُ شياءٍ حتى تبلغ أربعَ مئة شاةٍ، فإذا بلغت أربع مئة شاةٍ ففيها أربع شياهٍ حتى تبلغ خمس مئة شاةٍ، فإذا بلغت خمس مئة ففيها خمس شِياهٍ حتى تبلغ ست مئة شاةٍ، فإذا بلغت ست مئة شاةٍ ففيها ستُّ شياهٍ، فإذا بلغت سبعَ مئةٍ ففيها سبع شياهٍ حتى تبلغ ثمان مئة شاةٍ، فإذا بلغت ثمانَ مئة شاةٍ ففيها ثمانُ شياهٍ حتى تبلغ تسع مئة شاةٍ، فإذا بلغت تسع مئة شاةٍ ففيها تسع شياهٍ حتى تبلغ ألفَ شاةٍ، فإذا بلغت ألفَ شاة ففيها عَشْرُ شِياهٍ، ثم في كلِّ ما زادت مئةَ شاةٍ شاةٌ (1) . ومما يشهد لهذا الحديث بالصِّحة:
سیدنا ابن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تحریر کا نسخہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے متعلق لکھی تھی۔ اور یہی تحریر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آل کے پاس ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: سالم بن عبداللہ بن عمرو نے وہ پڑھایا تو میں نے اس کو من و عن یاد کر لیا۔ یہ وہ تحریر تھی جو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت لی تھی، جب وہ مدینہ کے گورنر مقرر ہوئے۔ آپ نے اپنے تمام ملازمین کو اسی پر عمل کرنے کا آڈر جاری کیا اور یہی مکتوب سیدنا ولید رضی اللہ عنہ کے طرف بھی بھیجا، ولید نے بھی اپنے ملازمین کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا پھر ان کے بعد تمام خلفاء اسی کا حکم دیتے رہے، پھر ہشام کے حکم پر مسلمانوں کے تمام عاملین کے پاس اس کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا گیا اور ان کو اس پر عمل کرنے اور اس سے تجاوز نہ کرنے کا پابند کیا گیا، اس تحریر کی تفصیل یہ ہے: پانچ سے کم اونٹوں میں زکوۃ نہ لی جائے۔ جب اونٹوں کی تعداد 5 تک پہنچے تو ان میں ایک بکری ہے 10 تک۔ جب تعداد 10 تک پہنچے تو ان میں 2 بکریاں 15 تک۔ 15 اونٹ ہوں تو ان میں چار بکریاں ہیں 25 تک۔ جب اونٹوں کی تعداد 25 تک پہنچے تو ان میں اونٹنی کی ایک سالہ بچی ہے، اگر ایک سالہ بچی نہ ہو تو 2 سالہ بچہ دیا جائے 35 تک۔ جب تعداد 36 تک پہنچے تو ان میں اونٹنی کی دو سالہ بچی ہے 45 تک۔ جب تعداد 46 کو پہنچے تو ان میں تین سالہ جوان اونٹنی ہے 60 تک۔ جب 61 ہوں تو ان میں ایک چار سالہ اونٹنی ہے 75 تک۔ جب تعداد 76 تک پہنچے تو ان میں دو سالہ دو اونٹنیاں 90 تک۔ جب تعداد 91 کو پہنچے تو ان میں 2 سالہ تین اونٹنیاں 291 تک۔ جب 130 ہو جائیں تو ان میں دو سالہ 2 اونٹنیاں اور ایک اونٹنی تین سالہ 139 تک۔ جب تعداد 140 کو پہنچے تو ان میں دو اونٹنیاں تین سالہ اور ایک دو سالہ 149 تک۔ جب تعداد 501 تک پہنچے تو ان میں تین سالہ تین اونٹنیاں 159 تک۔ جب تعداد 160 تک ہو جائے تو اس میں دو سالہ چار اونٹنیاں 169 تک۔ جب 170 ہوں تو اس میں تین اونٹنیاں دو سالہ اور ایک تین سالہ 179 تک۔ جب 180 تک تعداد جائے تو ان میں دو اونٹنیاں تین سالہ اور دو اونٹنیاں دو سالہ 189 تک۔ جب تعداد 190 تک پہنچے تو ان میں تین اونٹنیاں تین سالہ اور تین اونٹنیاں دو سالہ 199 تک۔ جب تعداد 200 تک پہنچے تو چار اونٹنیاں تین سالہ یا پانچ اونٹنیاں دو سالہ۔ کسی بھی عمر کے مل جائیں، ان کو اس کتاب کے مطابق وصول کرو پھر اونٹوں کی زکوۃ اسی طریقہ سے لی جائے جو ہم نے اس تحریر میں لکھ دیا ہے۔ اور بکریوں کی زکوۃ اس وقت تک نہ لی جائے جب تک ان کی تعداد 40 تک پہنچ جائے۔ جب ان کی تعداد 40 تک پہنچے تو ان میں ایک بکری ہے 120 تک۔ جب بکریوں کی تعداد 121 تک پہنچے تو ان میں دو بکریاں ہیں 200 تک۔ جب 200 سے زیادہ ہوں تو تین بکریاں ہیں 300 تک۔ جب 300 سے زیادہ ہوں تو اس میں کوئی چیز لازم نہیں ہے جب تک کہ 400 تک نہ پہنچے۔ جب 400 تک پہنچ جائے تو اس میں چار بکریاں ہیں۔ یہاں تک کہ تعداد 500 تک پہنچ جائے۔ جب 500 ہو جائیں تو ان میں پانچ بکریاں ہیں۔ جب تعداد 600 تک پہنچ جائے تو 6 بکریاں۔ جب 700 تک ہو جائے تو سات بکریاں ہیں۔ جب 800 تک پہنچ جائے تو 8 بکریاں۔ جب 900 ہو جائیں تو 9 بکریاں۔ جب 1000 ہو جائیں تو 10 بکریاں۔ پھر جتنے سو بڑھتے جائیں ہر سو کے عوض ایک بکری۔ ٭٭ مذکورہ حدیث کی شاہد احادیث میں سے ایک درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1460]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1461
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق وحَبِيب بن [أبي] (2) حَبِيب، عن عمرو بن هَرِم (3) ، أنَّ أبا الرِّجال محمد بن عبد الرحمن الأنصاري حدَّثه: أنَّ عمر بن عبد العزيز حين استُخلِف أَرسَل إلى المدينة يلتمس عهدَ النبي ﷺ في الصدقات، فوَجَدَ عند آل عمرو بن حزم كتابَ النبيِّ ﷺ إلى عمرو بن حَزْم في الصَّدقات، ووَجَدَ عند آل عمر بن الخطاب كتابَ عمرَ إلى عُمّاله في الصَّدقات، بمثلِ كتاب النبيِّ ﷺ إلى عمرو بن حَزْم، فأَمَرَ عمرُ بن عبد العزيز عمَّالَه على الصَّدقات أن يأخذوا بما في ذَينِكَ الكتابين، فكان فيهما: صدقةُ الإبل ما زادت على التسعين واحدةً ففيها حِقَّتان إلى عشرين ومئة، فإذا زادت على العشرين ومئة واحدةً ففيها ثلاثُ بنات لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وعشرين ومئة، فإذا كانت الإبلُ أكثرَ من ذلك فليس في ما لا يبلُغُ العشرةَ منها شيءٌ حتى تبلُغَ العشرة (1) . وأما كتابُ النبيِّ ﷺ لعَمْرو بن حَزْم فإنَّ إسناده من شرط هذا الكتاب، ولذلك ذكرتُ السِّياقةَ بطولها.
سیدنا محمد بن عبدالرحمن انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے مدینہ شریف میں زکوۃ کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی دستاویز کی تلاش میں ایک شخص کو بھیجا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آل کے پاس ایک تحری مل گئی جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ملازمین کی طرف صدقات کے حوالے سے لکھی تھی۔ اور یہ تحریر بالکل اسی تحریر جیسی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم کی طرف لکھی تھی تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنے زکوۃ کے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ انہی دونوں کتابوں میں موجود احکام پر عمل کریں، اس کے اندر یہ تفصیل تھی کہ اونٹوں کی زکوۃ یوں ہو گی: جب ان کی تعداد 90 سے زیادہ ہو تو اس میں تین سالہ دو اونٹنیاں ہیں 120 تک۔ جب تعداد 120 سے زیادہ ہو تو اس میں دو سالہ تین اونٹنیاں ہیں 129 تک۔ جب اس سے زیادہ ہو تو اس میں اس وقت تک زکوۃ نہیں ہے جب تک ان (زائد) کی تعداد دس تک نہ پہنچ جائے۔ ٭٭ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کو جو مکتوب لکھا اس کی اسناد ہماری اس کتاب کے معیار کی نہیں ہے، اس لیے میں نے گذشتہ حدیث تفصیلی ذکر کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1461]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں