المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. من تصدق من مال حرام لم يكن له فيه أجر وكان إصره عليه
جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا بلکہ اس کا وبال اسی پر رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 1459
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفيلي، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن سالم، عن أبيه قال: كَتَبَ رسول الله ﷺ كتابَ الصدقة، فلم يُخرِجْه إلى عُمَّاله حتى قُبِض، فقَرَنَه بسيفه، فعَمِل به أبو بكر حتى قُبِض، ثم عَمِل به عمرُ حتى قُبِض، فكان فيه: في خمس من الإبل شاةٌ، وفي عشَرةٍ شاتان، وفي خمسَ عَشْرةَ ثلاثُ شِياه، وفي عشرين أربعُ شِياه، وفي خمسٍ وعشرين بنتُ مَخَاض إلى خَمسٍ وثلاثين، فإذا زادت واحدةً ففيها بنتُ لَبونٍ إلى خمسٍ وأربعين، فإذا زادت واحدةً ففيها حِقَّة إلى ستين، فإذا زادت واحدةً ففيها جَذَعة إلى خمسٍ وسبعين، فإذا زادت واحدةً ففيها بنتا لَبونٍ إلى تسعين، فإذا زادت واحدةً ففيها حِقَّتان إلى عشرين ومئة، فإن كانت الإبلُ أكثرَ من ذلك ففي كلِّ خمسين حِقَّةٌ، وفي كلِّ أربعين بنتُ لَبون. وفي الغنم في كلِّ أربعين شاةً شاةٌ إلى عشرين ومئة، فإذا زادت واحدةً فشاتان إلى مئتين، فإذا زادت واحدةً على المئتين ففيها ثلاثُ شِياه إلى ثلاث مئة، فإن كانت الغنم أكثرَ من ذلك ففي كل مئة شاةٍ شاةٌ، وليس فيها شيءٌ حتى تَبلُغَ المئةَ. ولا يُفرَّق بين مُجتَمِع، ولا يُجمَع بين متفرِّقٍ مخافةَ الصدقة، وما كان من خَليطَينِ فإنهما يتراجعان بالسَّوِيّة. ولا يُؤخَذ في الصدقة هَرِمةٌ ولا ذاتُ عيبٍ. قال الزهري: إذا جاء المصَدِّقُ قُسِمت الشاءُ أثلاثًا: ثلثًا شِرارٌ، وثلثًا خِيارٌ، وثلثًا وَسَطٌ (1) ، فيأخذُ المصَدِّقُ من الوسط. ولم يَذكُر الزهريُّ البقر (2) .
هذا حديث كبيرٌ في هذا الباب، يشهد بكثرة الأحكام التي في حديث ثُمامة عن أنس، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا لسفيان بن حسين الواسطي في الكتابين، وسفيان ابن حسين أحد أئمة الحديث، وثَّقه يحيى بن معين، ودخل خُرَاسان مع يزيد بن المهلَّب، ودخل نيسابورَ، سمع منه جماعةٌ من مشايخنا القَهَنْدَزِيُّون، مثل مُبشِّر بن عبد الله بن رَزِين وأخيه عمر بن عبد الله وغيرهما، ويُصحِّحه على شرط الشيخين حديثُ عبد الله بن المبارك عن يونس بن يزيد عن الزُّهري، وإن كان فيه أدنى إرسالٍ فإنه شاهدٌ صحيح لحديث سفيان بن حسين:
هذا حديث كبيرٌ في هذا الباب، يشهد بكثرة الأحكام التي في حديث ثُمامة عن أنس، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا لسفيان بن حسين الواسطي في الكتابين، وسفيان ابن حسين أحد أئمة الحديث، وثَّقه يحيى بن معين، ودخل خُرَاسان مع يزيد بن المهلَّب، ودخل نيسابورَ، سمع منه جماعةٌ من مشايخنا القَهَنْدَزِيُّون، مثل مُبشِّر بن عبد الله بن رَزِين وأخيه عمر بن عبد الله وغيرهما، ويُصحِّحه على شرط الشيخين حديثُ عبد الله بن المبارك عن يونس بن يزيد عن الزُّهري، وإن كان فيه أدنى إرسالٍ فإنه شاهدٌ صحيح لحديث سفيان بن حسين:
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے متعلق ایک تحریر لکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی تلوار کے ساتھ باندھ کر رکھ دیا تھا۔ وہ ابھی آپ نے اپنے عمال کے حوالے نہیں کی تھی کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ساری زندگی اسی پر عمل کرتے رہے۔ اس میں (زکوۃ کا یہ طریقہ کار درج تھا): پانچ اونٹوں میں ایک بکری۔ دس اونٹوں میں دو بکریاں۔ پندرہ میں تیبن۔ بیس میں چار بکریاں ہیں۔ 25 اونٹوں میں اونٹنی کی ایک سالہ ایک بچی 35 تک۔ 35 سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں اونٹنی کی دو سالہ ایک بچی 45 تک۔ اگر اس سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں تین سالہ اونٹنی 60 تک۔ اگر اس سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں چار سالہ اونٹنی 75 تک۔ اگر اس سے ایک زیادہ ہو تو ان میں دو سالہ دو اونٹنیاں 90 تک۔ اگر ان سے ایک زیادہ ہو تو ان میں تین سالہ دو اونٹنیاں 120 تک۔ اگر اونٹ اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک 3 سالہ اونٹنی اور ہر چالیس میں ایک 2 سالہ اونٹنی۔ بھیڑ بکریوں میں ہر 40 میں ایک بکری 120 تک۔ اگر ان سے ایک بھی زائد ہو جائے تو دو بکریاں 200 تک۔ جب 200 سے زیادہ ہو تو ان میں 3 بکریاں 300 تک۔ اگر بھیڑ بکریاں اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر 100 میں ایک بکری۔ ان میں اس وقت تک کوئی چیز لازم نہیں ہے، جب تک تعداد (اگلے) 100 تک نہ پہنچ جائے۔ اور صدقہ کے خوف سے مجتمع کو متفرق نہ کیا جائے اور متفرق و مجتمع نہ کیا جائے اور جس چیز میں دو آدمی شریک ہوں تو دونوں کے ذمہ برابر زکوۃ ہے اور زکوۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور قبول نہ کیا جائے گا۔ ٭٭ امام زہری کہتے ہیں: جب زکوۃ وصول کرنے والا آئے تو بکریوں کے تین حصے کیے جائیں، ایک حصہ عیب دار بکریوں کا ایک عمدہ اور ایک میں درمیانی۔ زکوۃ وصول کرنے والا درمیانی حصے سے وصول کرے۔ زہری نے اپنی روایت میں گائے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ حدیث اس باب میں بہت بڑی حدیث ہے جس سے ان کثیر احکام پر شہادت ملتی ہے، جو ثمامہ کی انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں موجود ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سفیان بن حسین واسطی کی وجہ سے یہ حدیث اپنی کتابوں میں نقل نہیں کی۔ حالانکہ سفیان بن حسین ائمہ حدیث میں سے ایک ہیں۔ یحیی بن معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے یزید بن مہلب کے ہمراہ خراسان میں آئے اور وہاں سے نیشاپور گئے، ہمارے قہندری مشائخ میں سے ایک جماعت نے ان سے حدیث کا سماع کیا ہے، مثلاً مبشر بن عبداللہ بن رزین اور ان کے بھائی عمر بن عبداللہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم اور اس کو عبداللہ بن مبارک کی وہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر صحیح کرتی ہے جس کو انہوں نے یونس بن یزید کے واسطے سے زہری سے روایت کیا ہے، اس میں اگرچہ تھوڑا سا ” ارسال “ موجود ہے لیکن یہ سفیان بن حسین کی حدیث کے لئے صحیح شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1459]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1459 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في (ز) و (ب) بنصب "ثلثًا" ورفع ما بعدها في الكلمات الثلاث، وهو الموافق لما في "السنن الكبرى" للبيهقي 4/ 88 بروايته عن المصنف، وفي (ص) و (ع) بنصب الجميع، وكلاهما له وجه في العربية.
📖 حوالہ / مصدر: نسخہ (ز) اور (ب) میں لفظ "ثلثًا" زبر کے ساتھ اور اس کے بعد والے تینوں کلمات پیش کے ساتھ اسی طرح درج ہیں، اور یہی بیہقی کی "السنن الکبری" (4/ 88) کے موافق ہے جو انہوں نے مصنف سے روایت کی ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: جبکہ نسخہ (ص) اور (ع) میں تمام الفاظ زبر کے ساتھ ہیں، اور عربی قواعد کی رو سے ان دونوں صورتوں کی گنجائش موجود ہے۔