🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. الزكاة فى الزرع والكرم
کھیتی اور انگور کے باغ کی زکوٰۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1481
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن بُشَير بن يسار، عن سَهْل بن أبي حَثْمة: أنَّ عمر بن الخطاب بَعَثَه على خَرْصِ التمر، وقال: إذا أتيتَ أرضًا فاخْرُصْها ودَعْ لهم قَدْرَ ما يأكلون (1) .
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو کھجوروں کا اندازہ لگانے کے لیے بھیجا، تو فرمایا: جب تم زمین پر پہنچو اور کھجوروں کا اندازہ کر لو تو اتنی مقدار میں ان کے لیے چھوڑ دو جتنا وہ کھاتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1481]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1481 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات، إلّا أنَّ حماد بن زيد في روايته عن يحيى بن سعيد - وهو الأنصاري - مقال، قال عبد الرحمن بن مهدي - كما في "الجرح والتعديل" 3/ 138 لابن أبي حاتم -: ما رأيت أحدًا لم يكتب الحديث أحفظ من حماد بن زيد، لم يكن عنده كتاب إلّا جزء ليحيى بن سعيد، وكان يخلِّط فيه. قلنا: وقد خالف هنا جمعًا من الثقات الذين رووه مرسلًا إلى عمر، وفي رواياتهم أنَّ الذي بعثه عمر هو أبو حثمة وليس ابنه سهلًا، كما سيأتي في التخريج.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن حماد بن زید کی یحییٰ بن سعید الانصاری سے روایت میں کلام ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابن ابی حاتم کے مطابق عبد الرحمن بن مہدی نے کہا کہ میں نے حماد بن زید سے بڑھ کر کوئی حافظہ والا نہیں دیکھا لیکن ان کے پاس یحییٰ بن سعید کا ایک جزو (رسالہ) تھا جس میں وہ خلط ملط کر دیتے تھے۔ ⚠️ سندی اختلاف: انہوں نے یہاں ان ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے جو اسے حضرت عمرؓ تک مرسل روایت کرتے ہیں اور ان کی روایات میں ہے کہ بھیجے جانے والے شخص "ابو حثمہ" تھے نہ کہ ان کے بیٹے "سہل"۔
وأخرجه البيهقي 4/ 124 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه الخطيب في "تاريخ بغداد" 4/ 237 من طريق خلف بن هشام، عن حماد بن زيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (4/ 124) نے ابو عبداللہ الحاکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ خطیب نے "تاریخ بغداد" (4/ 237) میں اسے خلف بن ہشام عن حماد بن زید کی سند سے نقل کیا ہے۔
وأخرج أبو عبيد في "الأموال" (1449) - ومن طريقه ابن حزم في "المحلى" 5/ 159 - عن هشيم بن بشير ويزيد بن هارون، وابن سعد في "الطبقات الكبرى" 4/ 283 عن أنس بن عياض ويزيد بن هارون، وابن أبي شيبة 3/ 194 عن أبي خالد الأحمر، والبيهقي في "الكبرى" 4/ 124، وفي "المعرفة" (8188) من طريق سليمان بن بلال، خمستهم عن يحيى بن سعيد، عن بُشير بن يسار: أنَّ عمر بن الخطاب كان يبعث أبا حثمة خارصًا … الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید نے "الاموال" میں ہشیم اور یزید بن ہارون سے، ابن سعد نے "الطبقات" میں انس بن عیاض اور یزید بن ہارون سے، ابن ابی شیبہ نے ابو خالد الاحمر سے، اور بیہقی نے سلیمان بن بلال سے (یہ پانچوں یحییٰ بن سعید عن بشیر بن یسار کی سند سے روایت کرتے ہیں) کہ: حضرت عمرؓ "ابو حثمہ" کو تخمینہ لگانے والا بنا کر بھیجتے تھے۔
وهذا هو الصواب - والله أعلم - فسهل بن أبي حثمة توفي النبي ﷺ وعمره ثماني سنوات، وعيَّن بعضهم مولده سنة ثلاث من الهجرة، أما الذي كان يبعثه النبي ﷺ وعمرُ بن الخطاب هو أبوه أبو حثمة. انظر ترجمة سهل في "تهذيب الكمال" و"تهذيب التهذيب".
📌 اہم نکتہ: واللہ اعلم، درست بات یہی ہے (کہ وہ ابو حثمہ تھے) کیونکہ نبی ﷺ کی وفات کے وقت سہل کی عمر صرف آٹھ سال تھی، جبکہ وہ شخص جسے نبی ﷺ اور حضرت عمرؓ بھیجتے تھے وہ ان کے والد "ابو حثمہ" تھے۔ سہل کا تذکرہ "تہذیب الکمال" میں دیکھیں۔
وأخرج عبد الرزاق (7221) عن سفيان الثوري، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار: أنَّ عمر بن الخطاب كان يقول للخرّاص: دع لهم قدر ما يقع، وقدر ما يأكلون. لم يذكر فيه اسم المبعوث.
📖 حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (7221) نے سفیان ثوری عن یحییٰ بن سعید عن بشیر بن یسار کی سند سے روایت کیا کہ حضرت عمرؓ تخمینہ لگانے والوں سے فرماتے تھے: "ان کے لیے اتنا حصہ چھوڑ دو جو (گر کر) ضائع ہو جاتا ہے یا وہ خود کھاتے ہیں"۔ اس میں بھیجے گئے شخص کا نام مذکور نہیں۔
وأخرج عبد الرزاق أيضًا (7222) عن معمر، عن يحيى بن سعيد: أنَّ عمر بن الخطاب، فذكر نحوه، ولم يذكر بشير بن يسار.
📖 حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (7222) نے معمر عن یحییٰ بن سعید کی سند سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے لیکن اس میں بشیر بن یسار کا ذکر نہیں۔
وأخرج الطحاوي في "معاني الآثار" 2/ 40 من طريق أبي بكر بن عياش، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سعيد بن المسيب، قال: بعث عمر بن الخطاب سهل بن أبي حثمة يخرص على الناس … الحديث، وأبو بكر بن عياش له أغلاط، وقد تفرد هنا بذكر سعيد بن المسيب، وخالف الثقات إلّا حماد بن زيد في تسمية الصحابي المبعوث سهل بن أبي حثمة.
⚠️ سندی اختلاف: طحاوی (2/ 40) نے ابوبکر بن عیاش کی سند سے روایت کیا جس میں انہوں نے سعید بن المسیب کا ذکر کر کے سہل بن ابی حثمہ کا نام لیا ہے، لیکن ابوبکر بن عیاش سے غلطیاں ہوتی ہیں اور وہ اس میں منفرد ہیں۔
وأخرج أبو عبيد (1450) - ومن طريقه ابن حزم 5/ 160 - عن يزيد بن هارون، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، أنَّ أبا ميمون أخبره عن سهل بن أبي حثمة: أنَّ مروان بعثه خارصًا للنخل، فخرص مال سعد بن أبي وقاص سبع مئة وسق … وأبو ميمون هذا مجهول.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید (1450) نے یزید بن ہارون عن یحییٰ بن سعید کی سند سے روایت کیا کہ مروان نے سہل کو تخمینہ لگانے بھیجا تو انہوں نے سعد بن ابی وقاصؓ کے مال کا تخمینہ سات سو وسق لگایا۔ 👤 راوی پر جرح: اس سند میں موجود "ابو میمون" نامی راوی مجہول ہے۔