🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. زكاة الفطر طهرة للصيام
زکوٰۃ الفطر روزے کے لیے پاکیزگی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1504
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران الإسماعيلي، حدثنا أبي، حدثنا محمود بن خالد الدِّمشقي، حدثنا مروان بن محمد الدِّمشقي، حدثنا يزيد بن مسلم الخَوْلاني (1) - وكان شيخَ صدقٍ، وكان عبد الله بن وَهْبٍ يحدِّث عنه - حدثنا سَيَّار بن عبد الرحمن الصَّدَفي، عن عِكرِمة، عن ابن عباس قال: فَرَضَ رسول الله ﷺ زكاةَ الفِطر طُهرةً للصِّيام (2) من اللَّغو والرَّفَث، وطُعْمةً للمساكين، مَن أدّاها قبلَ الصلاة، فهي زكاةٌ مقبولة، ومن أدّاها بعد الصلاة، فهي صدقةٌ من الصَّدقات (3) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1488 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر لازم کیا ہے، یہ روزوں کو لغو اور فضول باتوں سے (اگر روزے کے دوران ہو گئی ہوں) پاک کرتا ہے اور یہ مسکینوں کا رزق ہے۔ جو اس کو نمازِ (عید) سے پہلے ادا کر دے اس کا صدقہ فطر قبول ہے اور جو اس کو نماز کے بعد ادا کرے تو یہ عام صدقوں میں سے ایک صدقہ ہو گا۔ (لیکن بہرحال یہ بھی ادا ہی ہو گا۔) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1504]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1504 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقعت تسميته عند الحاكم ﵀، وهو خطأ، صوابه أبو يزيد الخولاني، أشار إلى ذلك البيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 162 - 163، ثم قال: ذكره أبو أحمد الحافظ في "الكنى" ولم يعرف اسمه.
👤 راوی پر جرح: حاکم نے ان کا جو نام لیا وہ غلط ہے، درست "ابویزید الخولانی" ہے۔ بیہقی کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام معلوم نہیں ہو سکا۔
(2) في (ص) و (ع): للصائم، والمثبت من (ز) و (ب)، ويؤيده أنها كذلك في "سنن البيهقي" في روايته عن المصنِّف نفسه بهذا الإسناد.
📝 توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "للصائم" (روزہ دار کے لیے) ہے جبکہ مستند نسخوں میں "للصائمین" (روزہ داروں کے لیے) ہے۔
(3) إسناده حسن، أبو يزيد الخولاني وشيخه سيار بن عبد الرحمن صدوقان. وقال الدارقطني في "سننه" بعد أن رواه (2067): ليس في رواته مجروح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ ابویزید الخولانی اور سیار بن عبدالرحمن دونوں صدوق ہیں۔ دارقطنی کے مطابق اس کے راویوں میں کوئی مجروح نہیں ہے۔
وأخرجه أبو داود (1609) عن محمود بن خالد الدمشقي، بهذا الإسناد. وقرن بمحمود بن خالد: ¤ ¤ عبد الله بن عبد الرحمن السمرقندي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1609) نے محمود بن خالد الدمشقی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1827) عن عبد الله بن أحمد بن بشير وأحمد بن الأزهر، عن مروان بن محمد، به. ووقعت تسمية الخولاني عندهما وفي سائر مصادر التخريج أبا يزيد الخولاني.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1827) نے مروان بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اللغو: هو تكلُّم الإنسان بالمُطَّرَح من القول، وما لا يعني.
📌 اہم نکتہ: "اللغو": فضول اور لایعنی باتیں کرنا۔
والرفث، نقل ابن الأثير عن الأزهري قوله: هي كلمة جامعة لكل ما يريده الرجل من المرأة.
📌 اہم نکتہ: "الرفث": ہر وہ فحش بات یا فعل جو مرد اور عورت کے درمیان (تخلیے میں) ہو۔