🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. زكاة الفطر طهرة للصيام
زکوٰۃ الفطر روزے کے لیے پاکیزگی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1505
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، عن نافع، عن ابن عمر قال: كان الناسُ يُخرِجون صدقةَ الفِطْر على عهد رسول الله ﷺ صاعًا من شَعير، أو صاعًا من تمر، أو سُلْتٍ، أو زَبيب (1) .
هذا حديث (2) صحيحٌ، عبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابد، واسم أبي رَوّاد: أيمن، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا خشک انگور یا بغیر چھلکے کے جو صدقۂ فطر دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ عبدالعزیز بن روادثقہ ہیں، عابد ہیں اور ابوداؤد کا نام ایمن ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1505]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1505 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
قال ابن عبد البر في "التمهيد" معقبًا على هذه الزيادة: وابن عيينة يقول: فلما كان معاوية، وقول ابن عيينة عندي أولى، والله أعلم، لأنه أحفظ وأثبت من ابن أبي رواد.
📌 اہم نکتہ: ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ ابن عیینہ کے مطابق یہ فیصلہ حضرت معاویہ ؓ کا تھا، اور ابن عیینہ کا قول زیادہ مستند ہے کیونکہ وہ زیادہ بڑے حافظ ہیں۔
وانظر ما بعده.
📝 توضیح: اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔
(2) لفظ "حديث" من (ع) وحدها.
📝 توضیح: لفظ "حدیث" صرف نسخہ (ع) میں موجود ہے۔
(1) حديث صحيح، إلّا أنَّ أن ذِكْر السلت والزبيب في هذه الرواية وهمٌ، فقد تفرد عبد العزيز بن أبي رواد بذكرهما دون أصحاب نافع، كما نبه على ذلك مسلم في "التمييز" (92)، وابن عبد البر في "التمهيد" 14/ 317 - 318. لكن تابع عبدَ العزيز بنَ أبي روّاد موسى بنُ عقبة عند ابن خزيمة (2416) على ذكر السلت دون الزبيب.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن اس روایت میں "سُلت" اور "کشمش" (زبیب) کا ذکر وہم ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: امام مسلم اور ابن عبدالبر کے مطابق عبدالعزیز بن ابی رواد ان الفاظ کے ذکر کرنے میں منفرد ہیں، جبکہ نافع کے دیگر شاگردوں نے یہ ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه أبو داود (1614)، والنسائي (2307) من طريق حسين بن علي الجعفي، عن زائدة بن قدامة، عن عبد العزيز بن أبي روّاد، بهذا الإسناد. زاد أبو داود في آخره: قال عبد الله: فلما كان عمر وكثرت الحنطة جعل عمر نصف صاع حنطة مكان صاع من تلك الأشياء.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1614) اور نسائی (2307) نے حسین بن علی الجعفی کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابو داود کے مطابق حضرت عمر ؓ کے دور میں جب گندم زیادہ ہو گئی تو انہوں نے ایک صاع کے بدلے آدھا صاع گندم مقرر کر دی۔