🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. زكاة الفطر طهرة للصيام
زکوٰۃ الفطر روزے کے لیے پاکیزگی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1506
حدثنا علي بن عيسى الحِيْريّ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب وعبد الله بن محمد، قالا: حدثنا محمد بن عبد الأعلى، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن نافع، عن ابن عمر، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول حين فَرَضَ صدقة الفِطر:"صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من شَعِير"، وكان لا يُخرج إلَّا التَّمر (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجا فيه: إلَّا التّمر.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب صدقہ فطر فرض ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود کھجوریں ہی دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس حدیث میں صرف کھجور کا ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1506]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1506 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. عبد الله بن محمد: هو ابن عبد الرحمن بن شيرويه، ومحمد بن عبد الأعلى: هو الصنعاني، وسليمان والد المعتمر: هو ابن طرخان التيمي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: عبد اللہ بن محمد سے مراد ابن عبد الرحمن بن شیرویہ ہیں، محمد بن عبد الأعلى سے مراد الصنعانی ہیں، اور سلیمان (معتمر کے والد) سے مراد ابن طرخان التیمی ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2392) عن محمد بن عبد الأعلى الصنعاني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2392) نے محمد بن عبد الأعلى الصنعانی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج نحوه بزيادة ونقصان أحمد 10/ (5942)، والبخاري (1503) و (1504) و (1507)، ومسلم (984)، وأبو داود (1611) و (1612)، وابن ماجه (1825) و (1826)، والنسائي (2291 - 2295)، وابن حبان (3300 - 3304) من طرق عن نافع، به.
🧩 متابعات و شواہد: اسی کے ہم معنی روایت (کچھ کمی بیشی کے ساتھ) امام احمد (10/ 5942)، بخاری (1503، 1504، 1507)، مسلم (984)، ابو داود (1611، 1612)، ابن ماجہ (1825، 1826)، نسائی (2291 - 2295) اور ابن حبان (3300 - 3304) نے نافع کے مختلف طریقوں سے روایت کی ہے۔
وانظر تمام تخريجه وتفصيل طرقه في التعليق على "المسند" 8/ (4486).
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مکمل تخریج اور سندوں کی تفصیل کے لیے "مسند احمد" (8/ 4486) پر تعلیق ملاحظہ کریں۔
وسيأتي من طريق عبيد الله بن عمر عن نافع برقم (1511)، ومن طريق كثير بن فرقد عن نافع برقم (1508)، ويأتي تخريجهما هناك.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے عبید اللہ بن عمر عن نافع (رقم 1511) اور کثیر بن فرقد عن نافع (رقم 1508) کے طریق سے آئے گی، اور وہیں ان کی تخریج بھی ذکر کی جائے گی۔