المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. زكاة الفطر طهرة للصيام
زکوٰۃ الفطر روزے کے لیے پاکیزگی ہے۔
حدیث نمبر: 1508
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رِشْدين الفِهْري (1) بمصر، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن كَثِير بن فَرْقَد، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"زكاةُ الفِطْر فرضٌ على كلِّ مسلم حرٍّ وعبدٍ، ذكرٍ وأنثى من المسلمين، صاعٌ من تمرٍ أو صاعٌ من شعيرٍ" (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما جعلتُه بإزاء حديث أبي عمّار، فإنه على الاستحباب، وهذا على الوجوب.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما جعلتُه بإزاء حديث أبي عمّار، فإنه على الاستحباب، وهذا على الوجوب.
1508 - سیدنا ابن عمر (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکوٰۃ الفطر (فطرانہ) ہر مسلمان پر فرض ہے، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ؛ (اس کی مقدار) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہے“۔ یہ حدیث شیخین (امام بخاری رحمہ اللہ و مسلم) کی شرائط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ اور میں نے اسے ابوعمار کی حدیث کے مقابلے میں اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ وہ (ابوعمار کی حدیث) مستحب ہونے پر محمول ہے، جبکہ یہ (حدیث) وجوب (فرض ہونے) پر دلالت کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1508]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1508 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقعت نسبته هنا في النسخ الخطية، وكذا في "السنن الكبرى" للبيهقي 4/ 162 حيث روى هذا الحديث عن المصنف، فالظاهر أنه تحريف قديم، فقد وقعت نسبته في مصادر ترجمته وغيرها من كتب التخريج: المَهري، وقد أورده السمعاني في "الأنساب" 12/ 499 في المهري، وكذا ابن الأثير في "اللباب" 3/ 275 وقال: بفتح الميم وسكون الهاء وفي آخرها الراء، نسبة إلى مهرة بن حيدان بن عمرو بن الحاف بن قضاعة، قبيلة كبيرة ينسب إليها أبو الحجاج رشدين بن سعد المهري من أهل مصر.
📝 توضیح: قلمی نسخوں اور بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (4/ 162) میں بھی اسی طرح کی نسبت واقع ہوئی ہے، مگر ظاہر ہے کہ یہ قدیم تحریف ہے، کیونکہ دیگر مصادر میں یہ نسبت "المَهری" (میم پر زبر اور ہا ساکن) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: سمعانی اور ابن اثیر کے مطابق یہ "مہرہ بن حیدان" (قبیلہ قضاعہ) کی طرف نسبت ہے، جس سے ابو الحجاج رشدین بن سعد المہری المصری منسوب ہیں۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين، وقد توبع. الليث: هو ابن سعد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، لیکن یہ خاص سند احمد بن محمد بن الحجاج بن رشدین کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، 🧩 متابعات و شواہد: تاہم اس کی تائید (متابعت) موجود ہے۔ لیث سے مراد ابن سعد ہیں۔
وأخرجه البيهقي 4/ 162 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (4/ 162) نے ابو عبد اللہ الحاکم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2074) عن محمد بن إسماعيل الفارسي، عن ابن رشدين، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2074) نے محمد بن اسماعیل الفارسی عن ابن رشدین کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2074) من طريق أبي علاثة محمد بن عمرو بن خالد، والبيهقي 4/ 162 من طريق عبيد بن عبد الواحد بن شريك، كلاهما عن يحيى بن بكير، به. وأبو علاثة وعبيد لا بأس بهما.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی نے محمد بن عمرو بن خالد (ابو علاثہ) اور بیہقی نے عبید بن عبد الواحد کے طریق سے یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو علاثہ اور عبید میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہما)۔
وأخرج البخاري (1507)، ومسلم (984) (15)، وابن ماجه (1825)، والنسائي (11658)، وابن حبان (3300) من طرق عن الليث بن سعد، عن نافع، أنَّ عبد الله بن عمر قال: أمر النبي ﷺ بزكاة الفطر صاعًا من تمر، أو صاعًا من شعير، قال عبد الله ﵁: فجعل الناس عَدْلَه مدَّين من حنطة. لم يذكروا فيه كثير بن فرقد.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (1507)، مسلم (984)، ابن ماجہ (1825)، نسائی (11658) اور ابن حبان (3300) نے لیث بن سعد کے مختلف طریقوں سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمر ؓ نے کہا: "نبی ﷺ نے زکوٰۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کا حکم دیا، پھر لوگوں نے اس کے برابر گندم کے دو مُد (نصف صاع) مقرر کر لیے"۔ ان روایات میں کثیر بن فرقد کا ذکر نہیں ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1506)، وما سيأتي برقم (1511).
📝 توضیح: گزشتہ حدیث (رقم 1506) اور آنے والی حدیث (رقم 1511) ملاحظہ فرمائیں۔