المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. التكفل للجنة لمن ترك السؤال من الناس
جو شخص لوگوں سے سوال ترک کر دے اس کے لیے جنت کی ضمانت ہے۔
حدیث نمبر: 1517
أخبرني أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد بن البَختَري، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن عاصم، عن أبي العاليَة، عن ثَوْبان مولى رسول الله ﷺ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن تَكفَّلَ لي أن لا يَسألَ الناسَ شيئًا فأتكفَّلَ له بالجنة؟" فقال ثوبان: أنا، فكان لا يَسألُ الناس شيئًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط [مسلم] (2) ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط [مسلم] (2) ولم يُخرجاه.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے دے کہ وہ کسی سے سوال نہیں کرے گا، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں، تو ثوبان رضی اللہ عنہ بولے: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) میں (سوال نہ کرنے کی ضمانت دیتا ہوں) (ابوالعالیہ کہتے ہیں) سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1517]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1517 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. معاذ: هو ابن معاذ العنبري، وعاصم: هو ابن سليمان الأحول، وأبو العالية: هو رُفيع بن مهران الرياحي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: معاذ العنبري، عاصم الاحول اور ابو العالیہ (رفیع بن مہران) سب ثقہ ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1643) عن عبيد الله بن معاذ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1643) نے عبید اللہ بن معاذ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22374) عن محمد بن جعفر غندر، عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22374) نے غندر عن شعبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22366) من طريق شريك بن عبد الله النخعي، عن عاصم الأحول، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22366) نے شریک بن عبد اللہ النخعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22385) و (22405) و (22423) و (22424)، وابن ماجه (1837)، والنسائي (2382) من طريق عبد الرحمن بن يزيد بن معاوية، عن ثوبان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابن ماجہ (1837) اور نسائی (2382) نے عبد الرحمن بن یزید کے واسطے سے حضرت ثوبان ؓ سے روایت کیا ہے۔
(2) مكانها بياض في النسخ الخطية، وأثبتناها من "تلخيص الذهبي"، وفي "إتحاف المهرة" ¤ ¤ (2510): على شرطهما.
📝 توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں بظاہر خالی جگہ تھی، ہم نے اسے "تلخیص الذہبی" سے مکمل کیا ہے۔ "اتحاف المہرہ" (2510) کے مطابق یہ بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔