المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. التكفل للجنة لمن ترك السؤال من الناس
جو شخص لوگوں سے سوال ترک کر دے اس کے لیے جنت کی ضمانت ہے۔
حدیث نمبر: 1518
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا سَهْل بن مِهْران البغدادي، حدثنا عبد الله بن بَكْر السَّهْمي، حدثنا مبارك بن فَضَالة، عن ثابت البُناني، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عبد الرحمن بن أبي بكر، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"هل منكم أحدٌ أطعمَ اليومَ مسكينًا؟" فقال أبو بكر: دخلتُ المسجد، فإذا أنا بسائلٍ يَسألُ، فوجدتُ كِسرةَ الخُبز في يَدِ عبد الرحمن، فأخذتُها فدفعتُها إليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک سائل کو سوال کرتے ہوئے پایا، مجھے عبدالرحمن کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا نظر آیا تو میں نے وہ لے کر اس سائل کو دے دیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1518]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فضالة.» [ترقيم الرساله 1518] [ترقيم الشركة 1506]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1518 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فضالة.
⚖️ درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر صحیح ہے، اور مبارک بن فضالہ کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أبو داود (1670) عن بشر بن آدم، عن عبد الله بن بكر السهمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1670) نے بشر بن آدم عن عبد اللہ بن بکر السہمی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد من حديث أبي هريرة عند مسلم (1028).
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جو امام مسلم (1028) کے ہاں موجود ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1518 in Urdu