🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. حكم من سأل بالله واستعاذ بالله
جو اللہ کا واسطہ دے یا اللہ کی پناہ مانگے اس کے بارے میں حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1520
أخبرَناه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا الأَسود بن عامر شاذانُ، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن سَألكم بالله فأَعطُوه، ومن استعاذَكُم بالله فأعِيذُوه، ومن دعاكم فأجِيبُوه" (1) . هذا إسناد صحيح، فقد صحَّ عند الأعمش الإسنادان جميعًا على شرط الشيخين، ونحن على أصلنا في قَبول الزِّيادات من الثقات في الأسانيد والمتون.
اعمش، ابوحازم کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تم سے اللہ کے نام پر مانگے تم اس کو عطا کرو اور جو تم سے اللہ کے نام پر پناہ مانگے تم اس کو پناہ عطا کرو۔ اور جو تمہیں دعوت دے تم اس کی دعوت کو قبول کرو۔ ٭٭ یہ اسناد صحیح ہے۔ چنانچہ اعمش کے حوالے سے دو سندیں صحیح ثابت ہوئی ہیں جو کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہیں۔ اور ہم اسانید اور متون کے حوالے سے ثقہ راوی کی جانب سے ہونے والے اضافے کو قبول کرنے کے سلسلے میں اپنے قانون پر عمل پیرا ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1520]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1520 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبي بكر بن بن عياش، فقد رواه عنه الأسود بن عامر - عند المصنف هنا - عن الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة. وتابع الحارثَ بنَ أبي أسامة في روايته عن الأسود بهذا الإسناد: أحمدُ بن حنبل في "المسند" 16/ (10651).
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن اس کے راوی ابوبکر بن عیاش پر اس سند میں اختلاف ہوا ہے۔ اسود بن عامر نے اسے الاعمش عن ابی حازم عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا، اور امام احمد نے "المسند" (16/ 10651) میں اسود کی تائید کی ہے۔
وأخرجه أحمد مرةً أخرى 9/ (5703) عن أسود بن عامر، عن أبي بكر بن عياش، عن ليث بن أبي سلم، عن مجاهد، عن ابن عمر. وليث بن أبي سليم ضعيف.
⚠️ سندی اختلاف: امام احمد نے ایک اور جگہ (9/ 5703) اسود بن عامر عن ابی بکر بن عیاش کی سند سے اسے لیث بن ابی سلیم عن مجاہد عن ابن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔
وتابع الأسودَ بنَ عامر في إسناد ليث هذا: ثابت بن محمد الشيباني - وهو صدوق يخطئ - عن أبي بكر بن عياش، به، أخرجه الطبري في مسند عمر "تهذيب الآثار" (106) و (112).
🧩 متابعات و شواہد: ثابت بن محمد الشیبانی (جو صدوق ہیں مگر خطا کر جاتے ہیں) نے لیث والی سند میں اسود بن عامر کی تائید کی ہے، اسے طبری نے "تہذیب الآثار" (106، 112) میں روایت کیا ہے۔
وقال الدارقطني في "العلل" (2212): وهذه الألفاظ إنما تعرف عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: دارقطنی نے "العلل" (2212) میں کہا: "یہ الفاظ صرف الاعمش عن مجاہد عن ابن عمر کی سند سے ہی معروف ہیں۔"