المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. أفطر الحاجم والمحجوم
پچھنا لگانے والا اور جسے پچھنا لگایا گیا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1579
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرني أبو عمرو بن جعفر العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن عاصم، عن أبي قِلابةَ، عن أبي الأشعث، عن شدّاد بن أوس: أنَّ النبي ﷺ مَرَّ برجل يَحتَجِم في سبعَ عَشْرةَ من رمضان، فقال:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (1) .
سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ہمراہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سترھویں روزے ایک شخص کے پاس سے گزرے تو وہ پچھنے لگوا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ جاتا رہا۔ ٭٭ (امام حاکم فرماتے ہیں) ابومحمد الحسن بن محمد بن اسحاق الاسفرائنی نے محمد بن احمد البراء کے حوالے سے علی بن المدینی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ شداد بن اوس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث کہ ” آپ نے رمضان میں ایک شخص کو پچھنے لگواتے دیکھا “ اس کو عاصم الاحوال نے ابوقلابہ کے واسطے سے ابوالاشعث سے روایت کیا ہے اور اسی کو یحیی بن ابی کثیر نے ابوقلابہ کے بعد ابواسماء کے واسطے سے ابوالاشعث سے روایت کیا ہے۔ اور میرے نزدیک یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ اور یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس حدیث کا دونوں سے سماع کیا ہو۔ اور روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت پر مشتمل حدیث درج ذیل ہے۔ اور اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری میں نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1579]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1579 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو عمرو بن جعفر: هو محمد بن جعفر بن محمد بن مطر، ويحيى بن محمد: هو ابن البختري الحنائي، ومعاذ والد عبيد الله: هو ابن معاذ العنبري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو عمرو بن جعفر محمد بن مطر ہیں، یحییٰ بن محمد الحنائی ہیں اور عبید اللہ کے والد معاذ العنبری ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17126) عن محمد بن جعفر، والنسائي (3138) من طريق النضر بن شميل، كلاهما عن شعبة بن الحجاج، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17126) نے محمد بن جعفر سے اور نسائی (3138) نے نضر بن شمیل کے طریق سے (دونوں نے شعبہ سے) اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔