المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. وجه النهي عن صوم يوم الجمعة
جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1612
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا معاوية بن صالح. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن - وهو ابن مَهْدي - عن معاوية بن صالح، عن أبي بِشْر، عن عامر بن لُدَين الأشعري، أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يوم الجمعة عيدٌ، فلا تجعلوا يومَ عيدِكم يومَ صيامِكم، إلَّا أن تصوموا قبلَه أو بعدَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ أبا بِشْر هذا لم أقف على اسمه، وليس ببَيانِ بن بِشْر ولا بجعفر بن أبي وَحْشِيَّة، والله أعلم (1) . وشاهدُ هذا بغير هذا اللفظ مخرَّج في الكتابين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ أبا بِشْر هذا لم أقف على اسمه، وليس ببَيانِ بن بِشْر ولا بجعفر بن أبي وَحْشِيَّة، والله أعلم (1) . وشاهدُ هذا بغير هذا اللفظ مخرَّج في الكتابين (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن عید کا دن ہے۔ اس لیے اپنی عید کے دن کو روزہ کا دن مت بناؤ۔ البتہ اس کے بعد یا پہلے بھی روزہ رکھو (تو ٹھیک ہے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی سند میں جو ابوبشر ہیں مجھے ان کا نام معلوم نہیں ہے کیونکہ یہ نہ تو ” بیان بن بشر “ ہیں اور نہ ہی ” جعفر بن ابی وحشیہ “ ہیں۔ واللہ اعلم۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث ہے جس کو بخاری اور مسلم میں نقل کیا گیا ہے تاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1612]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1612 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، أبو بشر - وهو مؤذن مسجد دمشق، كما جاء مصرَّحًا به في "مسند أحمد" وبعض مصادر التخريج - روى عنه جمع، ووثقه العجلي فيما نقله عنه الحافظ في "التهذيب"، وعامر بن لُدَين - بضم اللام وفتح الدال المهملة - نقل الذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 1120، والحافظ ابن حجر في "تعجيل المنفعة" 1/ 708 عن العجلي قوله: تابعي ثقة. قلنا: ثم إنه متابع على معنى الحديث من وجه آخر عن أبي هريرة في "الصحيحين" وغيرهما كما سيأتي. ¤ ¤ وهو في "مسند أحمد" 13/ (8025) عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو بشر (جو دمشق کی جامع مسجد کے مؤذن تھے) سے ایک جماعت نے روایت کیا اور عجلی نے ان کی توثیق کی۔ عامر بن لُدَین کو ذہبی اور ابن حجر نے عجلی کے حوالے سے تابعی ثقہ قرار دیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: یہ حدیث مسند احمد 13/ (8025) میں عبدالرحمن بن مہدی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ موجود ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 16/ (10890) عن حماد بن خالد، عن معاوية بن صالح، به. وقد وقع عنده هنا تعيين أبي بشر بأنه مؤذن مسجد دمشق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 16/ (10890) نے حماد بن خالد عن معاویہ بن صالح سے روایت کیا، جہاں ابو بشر کی صراحت "دمشق کی مسجد کے مؤذن" کے طور پر ہوئی ہے۔
وقد سلف برقم (1185) من طريق محمد بن سيرين عن أبي هريرة رفعه: "لا تخصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام، ولا تخصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي".
📌 اہم نکتہ: یہ (حدیث نمبر 1185) پر محمد بن سیرین عن ابی ہریرہ ؓ کی سند سے مرفوعاً گزر چکا ہے کہ: "دنوں میں سے جمعہ کو روزے کے لیے، اور راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے لیے خاص نہ کرو"۔
(1) وقد وافقه الذهبي في "تلخيص المستدرك" على ذلك، فقال: هو مجهول!
👤 راوی پر جرح: امام ذہبی نے تلخیص المستدرک میں اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے!
(2) أخرجه البخاري (1985)، ومسلم (1144) (147) من طريق أبي صالح ذكوان السمان، عن أبي هريرة قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "لا يصومن أحدكم يوم الجمعة إلّا يومًا قبله أو بعده"، وقد تقدم تخريجه عند الحديث (1185) المشار إليه سابقًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1985) اور مسلم (1144) نے ابو صالح عن ابی ہریرہ ؓ سے روایت کیا: "تم میں سے کوئی جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ رکھے"۔ اس کی تخریج پہلے حدیث (1185) میں ہو چکی ہے۔