🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. السبيل : الزاد والراحلة
راہِ حج کی استطاعت زادِ راہ اور سواری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1630
حدثنا أبو بكر [بن] محمد بن أبي دارِم (1) الحافظ بالكوفة وأبو سعيد إسماعيل بن أحمد التاجر، قالا: حدثنا علي بن العباس بن الوليد البَجَليّ، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْديّ، حدثنا ابن أبي زائدة، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتادة، عن أنس، عن النبي ﷺ في قوله ﵎: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97] ، قال: قيل: يا رسولَ الله، ما السَّبيل؟ قال: الزَّادُ والرَّاحلةُ" (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع حمادُ بن سلمة سعيدًا على روايته عن قتادة:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے قول: وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا لوگوں پر اللہ کے لیے حج فرض ہے، اس شخص پر جو اس تک سبیل کی استطاعت رکھتا ہو۔ کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان نقل کرتے ہیں۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سواری اور خرچہ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو قتادہ سے روایت کرنے میں حماد بن سلمہ نے سعید کی متابعت کی ہے۔ (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1630]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1630 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ع) والمطبوع إلى: أبو بكر محمد بن أبي حازم، وهو خطأ صوبناه من "إتحاف المهرة" 2/ 221، وهو أبو بكر أحمد بن محمد بن السري محدِّث الكوفة، قال فيه الحاكم كما في "ميزان الاعتدال" للذهبي: رافضي غير ثقة.
👤 راوی پر جرح: قلمی نسخوں میں یہاں نام "محمد بن ابی حازم" ہو گیا تھا، درست نام "احمد بن محمد بن السری" ہے جنہیں امام حاکم نے رافضی اور غیر ثقہ قرار دیا ہے۔
(2) رجاله ثقات غير ابن أبي دارم ففيه كلام كما سبق، ولكنه متابع، إلا أنَّ علة هذا الحديث في وصله من حديث أنس، فذكر أنس في الحديث وهمٌ، والصحيح رواية قتادة عن الحسن البصري ¤ ¤ عن النبي ﷺ مرسلًا، ذكر ذلك غير واحد من أهل العلم، منهم البيهقي 4/ 330، وابن عبد الهادي في "التنقيح" 3/ 381، وابن المنذر فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "التلخيص" 2/ 221. ولعلَّ الحملَ فيه على سعيد بن أبي عروبة فإنه كان قد اختلط، وابن أبي زائدة - وهو يحيى بن زكريا - لا يُدرى هل روى عنه قبل الاختلاط أم بعده، وقد خالفه يزيد بن زريع وجعفر بن عون فروياه عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن مرسلًا، ويزيد بن زريع ممن روى عن ابن أبي عروبة قبل الاختلاط، أما متابعة حماد بن سلمة التي أشار إليها وأوردها بعد هذا الحديث، فالراوي فيها عن حماد هو عبد الله بن واقد الحراني، وهو متروك، فلا يفرح بتلك المتابعة، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن اسے حضرت انس ؓ سے منسوب کرنا وہم ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: صحیح روایت قتادہ عن الحسن البصری سے مرسل ہے، جیسا کہ بیہقی، ابن عبد الہادی اور ابن المنذر نے صراحت کی ہے۔ حماد بن سلمہ کی جس متابعت کا اشارہ کیا گیا، اس کا راوی متروک ہے، لہٰذا اس کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
وأخرجه الدارقطني (2418) - ومن طريقه ابن الجوزي في "التحقيق في مسائل الخلاف" (1133) - عن أحمد بن علي بن حبيش الرازي، عن علي بن العباس بن الوليد بهذا الإسناد. وقرن الدارقطني بأحمد بن علي بن حبيش محمدَ بنَ سهيل، ولم يذكره ابن الجوزي.
📖 حوالہ / مصدر: دارقطنی (2418) اور ابن الجوزی نے احمد بن علی الرازی کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "التفسير" 4/ 17 من طريق يزيد بن زريع والبيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 330 من طريق جعفر بن عون، كلاهما عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، مرسلًا. قال البيهقي: هذا هو المحفوظ.
📖 حوالہ / مصدر: طبری نے "تفسیر" (4/ 17) میں اور بیہقی نے (4/ 330) پر اسے سعید بن ابی عروبہ عن قتادہ سے مرسل روایت کیا ہے اور بیہقی کے مطابق یہی روایت "محفوظ" (درست) ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (518). وأخرجه عبد الله بن أحمد في "مسائله عن أبيه" (737)، وأبو داود السجستاني في: مسائله للإمام أحمد" (672) أحمد، كلاهما (سعيد وأحمد) عن هشيم بن بشير، و قرن سعيد بن منصور بهشيم خالدًا الطحان.
📖 حوالہ / مصدر: سعید بن منصور اور امام احمد نے اپنی اپنی مسانید میں ہشیم بن بشیر کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 4/ 90، والبيهقي في "السنن الصغرى" (1456) من طريق سفيان الثوري، وابن أبي شيبة 4/ 90 من طريق عبد الأعلى بن عبد الأعلى السامي، والطبري في "التفسير" 4/ 16 من طريق إسماعيل ابن علية وبشر بن المفضل، ستتهم (هشيم وخالد والثوري وعبد الأعلى وابن علية وبشر) عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن النبي ﷺ مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ، بیہقی اور طبری نے سفیان ثوری، عبد الأعلى اور اسماعیل ابن علیہ وغیرہ کے طریقوں سے اسے یونس بن عبید عن الحسن سے مرسل روایت کیا ہے۔
وخالف هؤلاء الثقات الأثبات حصينُ بنُ مخارق، فرواه عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن أنس بن مالك، عن النبي ﷺ، أخرجه من طريقه الدارقطني (2426). وحصين هذا قال فيه الدارقطني: يضع الحديث.
👤 راوی پر جرح: حصین بن مخارق نے ثقہ راویوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسے حضرت انس ؓ سے متصل کیا ہے، مگر دارقطنی کے بقول حصین حدیثیں گھڑنے والا راوی ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 4/ 90 عن أبي أسامة حماد بن أسامة و 4/ 91 عن ابن عيينة، كلاهما عن هشام بن حسان. وأخرجه الطبري 4/ 16 من طريق جرير عن منصور بن المعتمر، كلاهما (هشام ومنصور) عن الحسن، عن النبي ﷺ مرسلًا. وهذان أيضًا وجهان صحيحان عن الحسن مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ اور طبری نے ہشام بن حسان اور منصور بن المعتمر کے طریق سے اسے حسن بصری سے مرسل روایت کیا ہے اور یہ دونوں طریقے صحیح ہیں۔
ورواه عتّاب بن أعين عن سفيان الثوري، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن أمه، عن عائشة، عن النبي ﷺ، أخرجه من طريقه العقيلي في "الضعفاء" (1305)، والدارقطني في "السنن" ¤ ¤ (2420)، والبيهقي في "الكبرى" 4/ 330، وفي "الصغرى" (1455). وذكر العقيلي أنَّ عتَّابًا وهم في حديثه هذا عن الثوري، وانظر "العلل" للدارقطني (3924).
⚠️ سندی اختلاف: عتاب بن اعین نے اس میں وہم کیا اور اسے عائشہ ؓ کے واسطے سے مرفوع کیا، عقیلی اور دارقطنی نے اس وہم کی نشاندہی کی ہے۔
وقد روي الحديث عن غير واحد من الصحابة، كابن عمر عند الترمذي (813) و (2998)، وابن عباس عند ابن ماجه (2897)، وجابر بن عبد الله عند الدارقطني (2413) وغيره، وابن عمرو عند الدارقطني أيضًا (2414 - 2417)، وعلي بن أبي طالب عنده أيضًا (2428) وعند غيره، وكلها لا تخلو أسانيدها من كذاب أو متهم أو متروك، فلا يفرح بواحد منها، قال ابن المنذر: لا يثبت الحديث في ذلك مسندًا، والصحيح من الروايات رواية الحسن المرسلة.
📌 اہم نکتہ: یہ حدیث ابن عمر، ابن عباس اور علی ؓ وغیرہ سے بھی مروی ہے لیکن ان کی سندیں کذاب یا متروک راویوں سے خالی نہیں ہیں۔ ابن المنذر کے مطابق یہ مسنداً ثابت نہیں، بلکہ حسن بصری کی مرسل روایت ہی صحیح ہے۔