🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. الحجر الأسود يمين الله التى صافح بها خلقه
حجرِ اسود اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد. وحدثنا أبو حفص عمر بن أحمد الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبد الله بن المُؤمَّل قال: سمعتُ عطاءً يحدِّث عن عبد الله بن عمرٍو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يأتي الرُّكنُ يوم القيامة أعظمَ من أبي قُبَيس، له لسانٌ وشَفَتانِ يتكلَّم عمَّن استَلَمَه بالنِّية، وهو يمينُ الله التي يُصافِح بها خَلْقَه" (1) . وقد روي لهذا الحديث شاهدٌ مفسَّر، غير أنه ليس من شرط الشيخين، فإنهما لم يحتجا بأبي هارون عُمارة بن جُوَين العَبْدي:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن رکن کوہِ ابوقبیس سے بڑا ہو کر آئے گا، اس کی زبان اور ہونٹ ہوں گے اور یہ ان لوگوں کی شفاعت کرے گا جنہوں نے اچھی نیت سے اس کا استلام کیا ہو گا، اور یہ اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے۔ ٭٭ اس حدیث کی ایک مفسر شاہد حدیث بھی ہے۔ لیکن وہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر نہیں ہے۔ کیونکہ انہوں نے ابوہارون عمارہ بن جوین عبدی کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1699]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1699 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره دون قوله: "وهو يمين الله التي يصافح بها خلقه"، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمّل، قال الذهبي في "التلخيص": عبد الله بن المؤمل واهٍ. عطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ان الفاظ کے علاوہ کہ "وہ (حجرِ اسود) اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے" کے بغیر "حسن لغیرہ" (دیگر شواہد کی بنا پر حسن) ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: جبکہ یہ مخصوص إسناد عبد اللہ بن مؤمل کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: امام ذہبی نے "التلخیص" میں کہا ہے کہ عبد اللہ بن مؤمل "واہٍ" (نہایت کمزور) ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہاں عطاء سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرج الشطر الأول فقط أحمد 11/ (6978) عن سريج بن النعمان، عن عبد الله بن المؤمل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا صرف پہلا حصہ امام احمد نے 11/ (6978) میں سریج بن النعمان عن عبد اللہ بن مؤمل کے طریق سے اسی إسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد لهذا الشطر ما قبله.
🧩 متابعات و شواہد: اس (حدیث کے) پہلے حصے کی تائید اس سے پہلے والی حدیث سے ہوتی ہے۔