🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. الحجر الأسود يمين الله التى صافح بها خلقه
حجرِ اسود اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1700
أخبرَناه أبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل من أصل كتابه حدثنا محمد بن صالح الكِيلِيني (2) ، حدثنا محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العَمِّي، عن أبي هارونَ العَبْدي، عن أبي سعيد الخُدْري قال: حَجَجْنا مع عمر بن الخطاب، فلمّا دَخَلَ الطوافَ استقبَلَ الحَجَرَ فقال: إنِّي أعلمُ أنك حَجَرٌ لا تَضَرُّ ولا تَنفَعُ، ولولا أنِّي رأيتُ رسول الله ﷺ قبَّلكَ ما قبَّلتُك. ثم قبَّله، فقال له عليُّ بن أبي طالب: بلى يا أميرَ المؤمنين، إنه يضُرُّ ويَنفعُ، قال: بِمَ قلتَ؟ قال: بكتاب الله ﵎، قال: وأينَ ذلك من كتاب الله؟ قال: قال الله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ [الأعراف: 172] ، خَلَقَ الله آدمَ ومَسَحَ على ظهره، فقرَّرهم بأنه الربُّ وأنهم العَبيد، وأخذ عُهودَهم ومَوَاثِيقَهم، وكَتَبَ ذلك في رَقٍّ، وكان لهذا الحَجَرِ عينانِ ولسانٌ فقال له: افتحْ فاكَ، قال: فَفَتَحَ فاهُ فأَلقَمَه ذلك الرَّقَّ، وقال: اشْهَدْ لِمَن وافاكَ بالمُوافاةِ يومَ القيامة، وإنِّي أشهدُ لَسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"يُؤتى يومَ القيامة بالحَجَر الأسود وله لسانٌ ذَلِقٌ يَشهدُ لمن يَستلمُه بالتوحيد"، فهو يا أميرَ المؤمنين يضرُّ ويَنفعُ، فقال عمر: أعوذُ بالله أن أعيشَ في قومٍ لستَ فيهم يا أبا حسن (1) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کے لیے گئے، جب ہم طواف کرنے لگے تو آپ حجر اسود سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ تو نقصان دے سکتا ہے نہ فائدہ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا (یہ کہنے کے بعد) پھر آپ نے اس کا بوسہ لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے امیرالمومنین! یہ فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کتاب سے یہ بات ثابت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کتاب اللہ کے کس مقام پر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ ٰادَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَ اَشْھَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْآ بَلٰی (الاعراف: 172) اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں؟ سب بولے: کیوں نہیں۔ (، امام رضا) ٭٭ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان سے اپنی ربوبیت اور ان کی عبودیت کا اقرار کروایا اور ان سے پختہ عہد و پیمان لیے اور یہ معاہدہ ایک کھال پر لکھا اور اس پتھر کی آنکھیں اور زبان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو کہا: اپنا منہ کھول! اس نے منہ کھولا! تو اللہ تعالیٰ نے یہ کھال اس کے منہ میں ڈال اس کو کھلا دی، پھر فرمایا: جو شخص تیرے ساتھ وعدہ پورا کرے تو قیامت کے دن اس کی وفاداری گواہی دینا (اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ حجراسود کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور یہ بڑی فصیح و بلیغ آواز میں ان لوگوں کے لیے گواہی دے گا جنہوں نے توحید کے ساتھ اس کا استلام کیا ہو گا، اس لیے اے امیرالمومنین! یہ پتھر فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: اے ابوحسن! جس قوم میں تم نہ ہو، اس قوم میں زندگی گزارنے سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1700]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1700 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرف في النسخ الخطية إلى: الكليني، والتصويب من مصادر ترجمته، والكِيليني بكسر الكاف بعدها ياء مثناة تحت ساكنة ثم لام مكسورة ثم ياء ثم نون مكسورة. انظر "توضيح المشتبه" لا بن ناصر الدين 7/ 338.
🔍 علّت / فنی نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "الکلینی" میں تحریف (غلطی) ہو گیا ہے، جبکہ ان کے حالاتِ زندگی کے مصادر سے اس کی درستی "الکِیلینی" (کاف کے نیچے زیر، پھر ساکن یا، پھر لام کے نیچے زیر، پھر یا اور آخر میں نون) کے طور پر ہوتی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: دیکھیے ابن ناصر الدین کی "توضیح المشتبہ" 7/ 338۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا، عمارة بن جوين أبو هارون العبدي متروك الحديث، وبعضهم كذَّبه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا إسناد نہایت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، 👤 راوی پر جرح: عمارہ بن جوین ابو ہارون العبدی "متروک الحدیث" ہے اور بعض محدثین نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3749) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "شعب الایمان" (3749) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے طریق سے اسی إسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأورده السيوطي في "الدر المنثور" 3/ 605 وزاد نسبته إلى الجندي في "فضائل مكة" وأبي الحسن القطان في "الطوالات".
📖 حوالہ / مصدر: امام سیوطی نے اسے "الدر المنثور" 3/ 605 میں ذکر کیا ہے اور اس کی نسبت الجندی کی "فضائل مکہ" اور ابوالحسن القطان کی "الطوالات" کی طرف بھی کی ہے۔
ويغني عنه في قصة تقبيل عمر بن الخطاب للحجر الأسود ما ثبت من غير وجه عنه عند البخاري (1597) و (1610)، ومسلم (1270)، وغيرهما، قال: إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت النبي ﷺ يقبلك ما قبلتك. وانظر تمام تخريجه في "مسند أحمد" 1/ (99).
📌 اہم نکتہ: حضرت عمر بن خطابؓ کے حجرِ اسود کو چومنے کے قصے کے متعلق وہ روایت کافی ہے جو بخاری (1597، 1610) اور مسلم (1270) وغیرہ میں مختلف سندوں سے ثابت ہے، جس میں انہوں نے فرمایا تھا: "میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے جو نہ نقصان دے سکتا ہے نہ نفع، اور اگر میں نے نبی ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے نہ چومتا"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس کی مکمل تخریج مسند احمد 1/ (99) میں دیکھیے۔
قوله: "في رَقٍّ" بفتح الراء: ما يُكتب فيه، وهو جلد رقيق.
📝 نوٹ / توضیح: عربی لفظ "رَقّ" (را کے زبر کے ساتھ) سے مراد وہ باریک چمڑا ہے جس پر لکھا جاتا ہے۔
و "لسان ذَلِقٌ": أي فصيح بليغ.
📝 نوٹ / توضیح: "لسان ذَلِقٌ" سے مراد فصیح و بلیغ زبان ہے۔