🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. قصة بناء البيت وتعميره مرارا
خانۂ کعبہ کی تعمیر اور اس کی بار بار مرمت کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1702
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان الجَوهَري، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك بن حرب، عن خالد بن عَرْعَرةَ قال: لما قُتِل عثمان ذُعِر الناسُ في ذلك اليوم ذُعرًا شديدًا، وكان سلُّ السيف فينا عظيمًا، فقعدتُ في بيتي، فعَرَضَتْ لي حاجةٌ في السوق، فخرجتُ، فإذا في ظلِّ القصرِ نَفَرٌ جلوسٌ نحوًا من أربعين رجلًا، وإذا سلسلةٌ معروضةٌ على الباب، فأردتُ أن أدخل، فمَنَعَني البواب، فقال القوم: دَعِ الرجلَ، فدخلتُ، فإذا أشرافُ الناس ووجوهُهم، فجاء رجلٌ جميلٌ في حُلَّةٍ ليس عليه قميصٌ ولا عِمَامةٌ، فقَعَدَ، فإذا عليُّ بن أبي طالب، ثم قال: إنَّ إبراهيم لما أراد بناءَ البيت ضاقَ به ذَرْعًا، فلم يَدْرِ ما يَصنَع، فأرسل الله السَّكينةَ، وهي ريحُ خَجُوجٌ، فانطَوتْ، فجعل يبني عليها كلَّ يوم سافًا (1) ومكةُ شديدةُ الحرّ، فلمَّا بلغ موضعَ الحَجَر، قال لإسماعيل: اذهب فالتمِسْ حَجَرًا فضَعْه هاهنا. فجعل يطوف في الجبال، فجاء جبريلُ بالحَجَر فَوَضَعَه، فجاء إسماعيل فقال: مَن جاء بهذا؟ أو من أين هذا؟ أو من أين أُتي بهذا؟ فقال: جاء به مَن لم يتَّكِلْ على بنائي وبنائِكَ، فَبَنَاه. ثم انهَدَمَ، فَبَنَتْه العَمالقةُ، ثم انهَدَمَ فَبَنَتْه جُرْهُم، ثم انهَدَمَ فَبَنَتْه قريش، فلما أرادوا أن يضعوا الحَجَر تشاجروا في وضعِه، فقالوا: أولُ من يَخرج من هذا الباب فهو يضعُه، فخرج رسولُ الله ﷺ من قِبَل باب بني شَيْبَة، فَأَمَرَ بثوبٍ فَبُسِطُ، فَوَضَعَ الحَجَرَ في وَسَطِه، ثم أَمَرَ رجلًا من كلِّ فَخِذٍ من أفخاذ قريشٍ أن يأخذ بناحيةِ الثِّياب، فأخذَه رسولُ الله ﷺ بيدِه فَوَضَعَه (2) . قد اتفَقَ الشيخان على إخراج الحديث الطويل عن أيوب السَّخْتِياني وكَثِير بن كثير عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس قصةَ بناءِ الكعبة أولَ ما بناه إبراهيمُ الخليل ﵇ (1) ، وهذا غيرُ ذاك.
سیدنا خالد بن عرعرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن لوگوں میں شدید خوف و حراس پھیل گیا اور ایک بہت بڑا فساد کھڑا ہو گیا تھا، اس لیے میں گھر میں بیٹھ گیا، اس دن ایک ضروری کام کی بناء پر میں گھر سے نکلا تو میں نے ایک عمارت کے سائے میں کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا، ان کی تعداد چالیس کے قریب ہو گی، میں نے دیکھا کہ دروازے پر ایک زنجیر لٹک رہی ہے، میں نے اس میں داخل ہونا چاہا لیکن دربانوں نے مجھے منع کر دیا۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: اس شخص کو جانے دو (انہوں نے مجھے اجازت دے دی) تو میں اندر داخل ہو گیا، جہاں پر معززینِ علاقہ بیٹھے ہوئے تھے پھر ایک خوبصورت نوجوان وہاں پر آیا۔ جس نے ایک بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اور قمیص اور عمامہ نہیں پہنا تھا وہ آ کر بیٹھ گیا (جب میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ) وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے فرمایا: جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو وہ اس کی پیمائش کے حوالے سے پریشان ہو گئے اور سمجھ نہ آئی کہ وہ (اس کی پیمائش) کس طرح کریں۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر سکینہ (رحمت، تیز ہوا یا ایسی ہوا جس کا چہرہ بلی جیسا تھا، اس کے دو پَر تھے اور ایک دم تھی، یا اس کی شکل انسان جیسی تھی) نازل فرمائی وہ (کعبہ کے مقام پر آ کر) سمٹ گئی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (سکینہ کی نشاندہی کے مطابق) روزانہ اس کا کچھ حصہ تعمیر کر لیا کرتے تھے اور مکہ میں موسم شدید گرم ہوتا ہے۔ جب تعمیر حجر اسود کے مقام پر پہنچی تو (دیوار میں ایک پتھر کم رہ گیا) سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے کہا: آپ جاؤ اور کوئی پتھر ڈھونڈ کر لاؤ اور اس کو یہاں پر رکھ دو، سیدنا اسماعیل علیہ السلام پہاڑوں میں جا کر پتھر ڈھونڈنے لگے، ان کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام ایک پتھر لے کر آئے اور ان کو دے دیا، سیدنا اسماعیل علیہ السلام وہ پتھر لے کر آ گئے، ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا: یہ پتھر کون لایا ہے؟ یا (شاید یہ کہا) یہ کہاں کا پتھر ہے؟ یا (شاید یہ کہا) یہ پتھر کہاں سے لایا گیا ہے؟ سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا: یہ وہ لایا ہے جو میری اور آپ کی تعمیر کا محتاج نہیں۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر مکمل کر دی۔ پھر اس کو گرایا گیا۔ پھر عمالقہ نے اس کو بنایا۔ پھر منہدم ہوا تو جرہم نے اسے بنایا، پھر منہدم ہوا تو قریش نے اس کی تعمیر کی، انہوں نے جب حجر اسود نصب کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے نصب کرنے میں وہ لوگ آپس میں لڑ پڑے، پھر یہ طے ہوا کہ جو شخص اس دروازے سے سب سے پہلے داخل ہو گا وہ اس کو نصب کرے گا (تو اتفاقاً سب سے پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بابِ بنی شیبہ کی جانب سے تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا منگوا کر بچھا دیا اور حجر اسود اس کے درمیان رکھ دیا۔ پھر قریش کے قبیلوں میں سے ہر قبیلے کے سردار کو حکم دیا۔ کہ وہ اس کپڑے کے کنارے کو پکڑ لے (جب ان سب نے مل کر کپڑے کے کناروں سے پکڑ کر حجر اسود اٹھا لیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خود اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر نصب کر دیا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایوب سختیانی اور کثیر بن کثیر کی سند کے ہمراہ سعید بن جبیر کے واسطے سے تعمیر کعبہ کا تفصیلی قصہ نقل کیا ہے۔ جس میں یہ ہے کہ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی جبکہ یہ حدیث اس سے کچھ مختلف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1702]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1702 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحفت في المطبوع إلى: ساقًا، والسَّاف: هو المدماك من البناء.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں لفظ "ساقاً" تحریف ہو گیا ہے، درست لفظ "السَّاف" ہے، جس کا مطلب دیوار کی اینٹوں کا ردّا یا تہہ ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب وخالد بن عَرْعرة.
⚖️ درجۂ حدیث: سماک بن حرب اور خالد بن عرعرہ کی وجہ سے اس کا إسناد حسن ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا الطيالسي (115)، والأزرقي في "أخبار مكة" 1/ 61، والحارث بن أبي أسامة (388 - بغية الباحث)، والطبري في "التفسير" 1/ 551 و 2/ 611، وابن المنذر في "الأوسط" (7504)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 72، وفي "الدلائل" 2/ 56، والضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 2/ (438) من طريق حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تفصیل اور اختصار کے ساتھ طیالسی (115)، ازرقی (1/ 61)، حارث بن ابی اسامہ (388)، طبری (تفسیر 1/ 551)، ابن منذر (7504)، بیہقی (5/ 72) اور ضیاء مقدسی (2/ 438) نے حماد بن سلمہ کے طریق سے اسی إسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج قطعة منه مختصرة الطبراني في "الأوسط" (2442) من طريق أبي عمر الضرير، عن حماد بن سلمة، عن داود بن أبي هند، عن سماك بن حرب، به. فزاد داودَ بن أبي هند بين حماد وسماك، وهذا من المزيد في متصل الأسانيد.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام طبرانی نے "الاوسط" (2442) میں حماد بن سلمہ اور سماک کے درمیان "داود بن ابی ہند" کا اضافہ کیا ہے، اور یہ "المزید فی متصل الاسانید" (متحصل سند میں اضافہ) کی قبیل سے ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أيضًا الطيالسي (115)، وابن أبي شيبة 170/ 10 و (14348 - عوامة)، وابن أبي عاصم في "الأوائل" (95)، والطبري في "التفسير" 1/ 551 و 2/ 611، وفي "التاريخ" 1/ 251 و 253، وابن أبي حاتم في "التفسير" 3/ 708، والبيهقي في "الدلائل" 5/ 56، وفي "الشعب" (3704)، وقوام السنة في "دلائل النبوة" (272)، والضياء المقدسي (439) من طرق عن سماك بن حرب، به. ¤ ¤ وأخرج الطبراني في "الأوسط" (6941) من طريق عبد العزيز بن عثمان بن جبلة، عن أبيه، عن شعبة، عن سماك، عن خالد بن عرعرة، عن علي، عن رسول الله ﷺ قال: "السكينة ريح خجوج" هكذا رفعه. قال الطبراني: لم يرو هذا الحديث عن شعبة إلّا عثمان بن جبلة، تفرَّد به ولده عنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طیالسی، ابن ابی شیبہ، ابن ابی عاصم، طبری، ابن ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ نے مختلف طرق سے سماک بن حرب سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: طبرانی نے "الاوسط" (6941) میں اسے مرفوعاً (نبی ﷺ کے قول کے طور پر) روایت کیا ہے کہ "سکینہ ایک تیز ہوا ہے"۔ 👤 راوی پر جرح: طبرانی فرماتے ہیں کہ شعبہ سے اسے صرف عثمان بن جبلہ نے روایت کیا اور ان سے ان کے بیٹے نے تفرد کیا۔
وخبر سماك هذا عن خالد بن عرعرة قد نثره المصنف في عدة مواضع من هذا الكتاب، فانظر ما سيأتي برقم (3192) و (3785) و (3931) و (3948).
📌 اہم نکتہ: سماک کی خالد بن عرعرہ سے یہ روایت مصنف نے اس کتاب میں کئی مقامات پر بکھیر کر ذکر کی ہے، جیسے نمبر (3192، 3785، 3931، 3948)۔
(1) بل قد انفرد بإخراجه البخاري (3364) دون مسلم، وسيأتي في "المستدرك" مختصرًا من طريق عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، عن كثير بن كثير، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، برقم (4069)، ويأتي تخريجه هناك إن شاء الله.
📌 اہم نکتہ: بلکہ اسے امام بخاری نے (3364) تنہا روایت کیا ہے (مسلم نے نہیں)، اور یہ عنقریب "المستدرک" میں نمبر (4069) پر مختصر طور پر آئے گی۔