🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. قصة بناء البيت وتعميره مرارا
خانۂ کعبہ کی تعمیر اور اس کی بار بار مرمت کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1703
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكِّيّ بن إبراهيم، حدثنا عبيد الله بن أبي زياد. وحدثنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب وسَلْم بن جُنادةَ، قالا: حدثنا وكيع، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثنا عبيد الله بن أبي زياد، عن القاسم، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال:"إنَّما جُعِل رميُ الجِمار والطَّواف والسَّعي بين الصَّفَا والمَرْوة لإقامةِ ذِكرِ الله لا لغيرِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطانوں کو کنکریاں مارنا اور طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا، ذکر اللہ قائم کرنے کے لیے ہے۔ اس کی غرض کچھ اور نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1703]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1703 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف، عبيد الله بن أبي زياد - وهو المكي القداح - حسن الحديث في المتابعات والشواهد، ولم يتابع على رفع هذا الحديث، بل قد اختلف عليه في رفعه ووقفِه، ووَقَفَه غيرُه، كما سيأتي. أبو زكريا العنبري: هو يحيى بن محمد بن عبد الله، وأبو كريب: هو محمد بن العلاء، والقاسم: هو ابن محمد بن أبي بكر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا إسناد ضعیف ہے، عبید اللہ بن ابی زیاد المکی القداح اگرچہ متابعات و شواہد میں "حسن الحدیث" ہے مگر اس حدیث کو مرفوعاً روایت کرنے میں وہ منفرد ہے، بلکہ اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اس پر اختلاف ہوا ہے اور دیگر نے اسے موقوف ہی رکھا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو زکریا سے مراد یحییٰ بن محمد، ابو کریب سے محمد بن العلاء اور القاسم سے القاسم بن محمد بن ابی بکر ہیں۔
وأخرجه أحمد 41 / (25080) عن وكيع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 41 / (25080) میں وکیع کے طریق سے اسی إسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 40 / (24351) عن أبي نعيم الفضل بن دُكين، عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 40 / (24351) میں سفیان ثوری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 41/ (24468) عن محمد بن بكر البرساني، وأبو داود (1888)، والترمذي (902) من طريق عيسى بن يونس، كلاهما عن عبيد الله بن أبي زياد، به. وقال الترمذي: حسن صحيح! ¤ ¤ ورواه سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن أبي زياد، عن القاسم، عن عائشة قولها موقوفًا، أخرجه عنه ابن أبي شيبة 4/ 32.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (41/ 24468)، ابو داؤد (1888) اور ترمذی (902) نے عیسیٰ بن یونس کے طریق سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: جبکہ سفیان بن عیینہ نے اسے حضرت عائشہؓ کا اپنا قول (موقوفاً) روایت کیا ہے، جیسا کہ ابن ابی شیبہ (4/ 32) میں ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق (8961)، والفاكهي في "أخبار مكة" (332) و (1423) من طريقين - بإسناد حسن - عن عطاء بن أبي رباح، عن عائشة موقوفًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (8961) اور فاکہی نے "اخبار مکہ" میں حسن إسناد کے ساتھ عطاء عن عائشہؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
وانظر "علل الدارقطني" (3882).
📖 حوالہ / مصدر: مزید دیکھیے "علل الدارقطنی" (3882)۔