المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. إن الطواف مثل الصلاة
طواف نماز کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 1704
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن صالح الهمذاني، حدثنا عبد الصمد بن حسان، حدثنا سفيان الثوري، عن عطاء بن السائب، عن طاووس، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"الطَّوافُ بالبيت صلاةٌ إِلَّا أَنَّ الله قد أحلَّ لكم فيه الكلام، فمَن تكلَّمَ فلا يتكلَّمْ إلَّا بخير" (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیت اللہ کا طواف بھی نماز ہے۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دوران گفتگو جائز کی ہے۔ تو جو شخص بات کرے وہ اچھی بات کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1704]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1704 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن صالح - وهو الأشج والمعروف بحمدان الهمذاني - وشيخه عبد الصمد بن حسان، فهما صدوقان، وقد توبعا، وعطاء بن السائب وإن كان قد اختلط فسماع سفيان الثوري منه قبل الاختلاط، لكن قد اختلف في رفعه ووقفه وفي تعيين اسم صحابيه، ورجح الموقوف النسائي والبيهقي وابن الصلاح والمنذري والنووي وابن حجر في "التلخيص الحبير" 1/ 130، أما الاختلاف في اسم الصحابي أو إبهامه فلا يضر، وقد بسطنا القول في هذا الحديث في تعليقنا على" شرح مشكل الآثار" للطحاوي (5973).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور محمد بن صالح (حمدان ہمدانی) اور ان کے شیخ عبد الصمد بن حسان کی وجہ سے یہ إسناد حسن ہے کیونکہ وہ دونوں صدوق ہیں اور ان کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: عطاء بن السائب اگرچہ اختلاط کا شکار ہوئے تھے مگر سفیان ثوری کا ان سے سماع اختلاط سے پہلے کا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: نسائی، بیہقی، ابن الصلاح اور ابن حجر وغیرہ نے موقوف روایت کو ترجیح دی ہے، جبکہ صحابی کے نام میں ابہام مضر نہیں ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ہم نے اس کی تفصیل "شرح مشكل الآثار" (5973) کے حاشیہ میں دی ہے۔
وأخرجه مرفوعًا الترمذي (960) عن قتيبة بن سعيد، عن جرير بن عبد الحميد، عن عطاء بن السائب بهذا الإسناد. وجرير بن عبد الحميد وإن كان سماعه من عطاء بعد الاختلاط، فقد تابعه سفيان الثوري في رواية الحاكم هذه، وسفيان بن عيينة في الحديث التالي بعد هذا، وسماعهما منه قبل الاختلاط. قال الترمذي: وقد روي هذا الحديث عن ابن طاووس وغيره عن طاووس عن ابن عباس موقوفًا، ولا نعرفه مرفوعًا إلّا من حديث عطاء. قلنا: بل قد رواه سعيد بن جبير عن ابن عباس مرفوعًا، فيما سيأتي برقم (3093) وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مرفوعاً امام ترمذی (960) نے جریر بن عبد الحمید عن عطاء کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: جریر کا سماع اگرچہ اختلاط کے بعد کا ہے مگر سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ نے ان کی متابعت کی ہے جن کا سماع اختلاط سے پہلے کا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ مرفوعاً صرف عطاء کی حدیث سے معلوم ہے، مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ سعید بن جبیر سے بھی مرفوعاً مروی ہے جس کا إسناد صحیح ہے (نمبر 3093)۔
وأخرجه عبد الرزاق (9791) عن جعفر بن سليمان الضبعي، عن عطاء بن السائب، عن طاووس أو عكرمة أو كليهما، عن ابن عباس قوله. هكذا موقوفًا، وجعفر بن سليمان بصري، ورواية البصريين عن عطاء بعد الاختلاط.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (9791) نے جعفر بن سلیمان کے طریق سے ابن عباسؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: جعفر بن سلیمان بصری ہیں اور بصریوں کی عطاء سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے۔
وأخرج النسائي في "الكبرى" (3931) من طريق إبراهيم بن ميسرة، عن طاووس، عن ابن¤ ¤ عباس قال: الطواف بالبيت صلاة، فأقلوا الكلام.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے "الکبریٰ" (3931) میں ابراہیم بن میسرہ عن طاؤوس کے طریق سے اسے ابن عباسؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے کہ: "بیت اللہ کا طواف نماز ہے، پس گفتگو کم کرو"۔
وخالف ابنَ ميسرة الحسنُ بنُ مسلم فرفعه وأبهم الصحابي، أخرجه أحمد 24/ (15423) و 27 / (16612) و 38/ (23201)، والنسائي في "الكبرى" (3930) من طريق ابن جريج قال: أخبرني الحسن بن مسلم، عن طاووس، عن رجل أدرك النبي ﷺ، أن النبي ﷺ قال: "إنما الطواف صلاة، فإذا طفتم فأقلوا الكلام". قال أحمد بإثره: ولم يرفعه محمد بن بكر. وقال الحافظ ابن حجر في "التلخيص" 1/ 130 - 131: والظاهر أنَّ المبهم فيه هو ابن عباس، وعلى تقدير أن يكون غيره فلا يضر إبهام الصحابة.
⚠️ سندی اختلاف: حسن بن مسلم نے ابراہیم بن میسرہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مرفوعاً روایت کیا اور صحابی کا نام مبہم رکھا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی نے ابن جریج عن حسن بن مسلم عن طاؤوس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ظاہر یہی ہے کہ یہاں مبہم صحابی ابن عباسؓ ہی ہیں، اور اگر کوئی اور بھی ہوں تو صحابی کا مبہم ہونا نقصان دہ نہیں ہے۔
قلنا: قد جعله حنظلة بن أبي سفيان من حديث ابن عمر موقوفًا عليه، أخرجه من طريقه النسائي في "المجتبى" (2923) عن طاووس، عن ابن عمر قال: أقلوا الكلام في الطواف، فإنما أنتم في الصلاة. قال الدارقطني في "العلل" (3044): وقول من قال: ابن عمر، أشبه.
🧾 تفصیلِ روایت: حنظلہ بن ابی سفیان نے اسے طاؤوس کے واسطے سے حضرت ابن عمرؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے، جسے نسائی نے (2923) میں نقل کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ ابن عمرؓ والا قول ہی زیادہ مشابہ (درست) ہے۔
وللشيخ الألباني ﵀ بحث نفيس في تخريج هذا الحديث والكلام عليه في "إرواء الغليل" (121) فلينظر.
📝 نوٹ / توضیح: شیخ البانیؒ کی اس حدیث کی تخریج پر نفیس بحث "ارواء الغلیل" (121) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
وانظر ما بعده، وما سيأتي برقم (3093) و (3095).
📌 اہم نکتہ: مزید دیکھیے اس کے بعد والی احادیث اور نمبر (3093، 3095)۔