المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. من أتى عرفات ولم يدرك الإمام
جو عرفات آ جائے لیکن امام کو نہ پا سکے۔
حدیث نمبر: 1720
حدَّثَناه عبد الصَّمد بن علي بن مُكْرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو عبد الله أحمد بن عبد الله بن أحمد بن حسان التُّسْتَري بتُسْتَر، حدثنا عبد الوهاب بن فُلَيح المكِّي، حدثنا يوسف بن خالد السَّمْتي البصري، حدثنا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عُروة بن مُضَرِّس الطائي قال: جئتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالمَوقِف، فقلت: يا رسول الله، أتيتُ من جَبَلَي طيِّئ، أكلَلْتُ مَطِيَّتي، وأتعبتُ نفسي، والله ما بقي من حَبْلٍ من تلك الحِبال إلَّا وقفتُ عليه، فقال:"مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ - يعني صلاةَ الغَداة - وقد أتى عَرَفةَ قبل ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد تمَّ حجُّه وقضى تَفَثَه" (1) . وقد تابع عروةَ بن المُضرِّس في رواية هذه السُّنة من الصحابة عبدُ الرحمن بن يَعْمَرَ الدُّؤَلي:
سیدنا عروہ بن مدرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے وقوف (مزدلفہ) میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں طے کے دو پہاڑوں سے آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا اور خود کو تھکا دیا، اللہ کی قسم! ان پہاڑی راستوں میں سے کوئی راستہ ایسا نہیں بچا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز— یعنی صبح کی نماز— پا لی اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفہ پہنچ چکا تھا، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے مناسک پورے کر لیے۔“
اس سنت کی روایت میں صحابہ میں سے عبدالرحمن بن یعمر الدیلی نے بھی عروہ بن مدرس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1720]
اس سنت کی روایت میں صحابہ میں سے عبدالرحمن بن یعمر الدیلی نے بھی عروہ بن مدرس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1720]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1720 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف، يوسف بن خالد السَّمْتي متهم، قال الذهبي في "تلخيص المستدرك": السمتي ليس بثقة، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 11/ 161: هذه الرواية لا تسوى شيئًا، فإنَّ يوسف بن خالد قد اتهموه بالوضع، فلا يصلح الاستشهاد به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/سخت ضعیف) ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: یوسف بن خالد السمیتی متہم (جس پر جھوٹ کی تہمت ہو) راوی ہے۔ ابن حجر کے مطابق یہ روایت کسی کام کی نہیں کیونکہ یوسف پر حدیث گھڑنے (وضع) کا الزام ہے، لہذا یہ بطور شاہد بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔
ولم نقف على هذه الطريق عند غير الحاكم، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: ہمیں یہ طریق امام حاکم کے علاوہ کہیں اور نہیں ملا۔ واللہ اعلم۔