🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. الإفاضة من عرفة بالسكينة
عرفات سے وقار اور سکون کے ساتھ روانہ ہونے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1728
أخبرنا أبو عبد الله محمد بنُ عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا حمّاد بن زيد، عن كَثِير بن شِنْظِير، عن عطاء، عن ابن عباس قال: إنَّما كان بَدْءُ الإيضاع من أهل البادية؛ كانوا يَقِفُون حافَتَي الناسِ قد علَّقوا (1) القِعابَ والعِصِيَّ، فإذا أفاضُوا تَقَعقَعوا، فَأَنفَرَتْ بالناس، فلقد رأيتُ رسول الله ﷺ وإن ذِفْرَى (2) ناقتِه لَيَمَسُّ حارِكَها (3) ، وهو يقول:"يا أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكِينة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: گھوڑے دوڑانے کا آغاز دیہاتیوں کی طرف سے ہوا، وہ لوگ دوسرے لوگوں کے کناروں پر ٹھہرتے تھے اور اپنا سازوسامان (پہلے سے ہی) باندھ کر رکھتے تھے، جب لوگ وہاں سے کوچ کرتے (تو سب سے پہلے یہ لوگ) بھاگتے پھر دوسرے لوگ بھی نکل پڑتے اور جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ سبک رفتاری کے باعث آپ کی اونٹنی کے ناخن زمین پر نہیں لگتے تھے، اس وقت آپ ارشاد فرما رہے تھے: اے لوگو! اطمینان کے ساتھ چلو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1728]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1728 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) عبارة "قد علَّقوا" سقطت من (ص) و (ع).
🔍 فنی نکتہ: عبارت "قد علَّقوا" (انہوں نے لٹکا رکھا تھا) نسخہ (ص) اور (ع) سے ساقط ہے۔
(2) في النسخ الخطية: ظفرى، والمثبت من "سنن البيهقي" 5/ 126 حيث رواه عن المصنِّف بإسناده هذا، وهو الصواب، وهو الموافق لما في مصادر التخريج عدا ابن خزيمة.
🔍 فنی نکتہ: خطی نسخوں میں یہ لفظ "ظفرى" ہے، جبکہ درست لفظ "ذفرى" ہے جیسا کہ "سنن بیہقی" (5/126) میں ہے جہاں انہوں نے مصنف کی اسی سند سے اسے روایت کیا ہے؛ ابن خزیمہ کے علاوہ دیگر تمام ذرائع بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔
(3) في النسخ الخطية: "لا يمس الأرض حاركها" ولا يستقيم المعنى، والمثبت من رواية ¤ ¤ البيهقي التي رواها عن المصنف، وهو الموافق لسائر مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "لا يمس الأرض حاركها" (اس کا حارک زمین کو نہیں چھوتا تھا) لکھا ہے جس سے معنی درست نہیں بنتا؛ درست عبارت بیہقی کی روایت کے مطابق ہے جو انہوں نے مصنف سے لی ہے اور یہی دیگر تمام مصادر کے موافق ہے۔
(1) إسناده حسن، كثير بن شنظير فيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح، وباقي رجاله ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ کثیر بن شنظیر کے بارے میں کلام ہے جو انہیں "صحیح" کے درجے سے گرا دیتا ہے، جبکہ باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔
عطاء: هو ابن أبي رباح.
🔍 فنی نکتہ: عطا سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2193) عن يونس بن محمد، عن حماد بن زيد، بهذا الإسناد. وفيه: ولقد رُئي رسول الله ﷺ وإن ذفرى ناقته … بلفظ المبني للمجهول، وهو الصواب، فإنَّ ابن عباس إنما روى ذلك عن أسامة بن زيد كما وقع في رواية قيس بن سعد عن عطاء عند أحمد 36/ (21756) و (21803)، والنسائي (4000)، وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/2193) نے یونس بن محمد عن حماد بن زید کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس میں "رُئي" (دیکھا گیا) مجہول کے صیغے کے ساتھ ہے اور یہی درست ہے، کیونکہ ابن عباسؓ نے یہ واقعہ حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت کیا ہے جیسا کہ قیس بن سعد کی عطا سے مروی روایت (مسند احمد 36/21756) میں واضح ہے۔
قوله: "الإيضاع": حمل البعير ونحوه على الإسراع في السير عند الإفاضة.
📝 توضیح: "الإيضاع" کا مطلب ہے عرفات سے واپسی (افاضہ) کے وقت اونٹ وغیرہ کو تیز چلنے پر ابھارنا۔
والقِعاب: جمع قَعْب، وهو القدح الضخم الغليظ من الخشب.
📝 توضیح: "القِعاب" لفظ 'قَعْب' کی جمع ہے، جس سے مراد لکڑی کا بنا ہوا بڑا اور چوڑا پیالہ ہے۔
تقعقعوا أي: ضرب بعضهم بعضًا، فكان منها صوت وصخب ينفر منه الناس.
📝 توضیح: "تقعقعوا" کا مطلب ہے ایک دوسرے سے ٹکرانا، جس سے ایسا شور و غل پیدا ہو کہ لوگ بدک جائیں۔
ذفرى ناقته: أصل أذنها.
📝 توضیح: "ذفرى ناقته" سے مراد اونٹنی کے کان کی جڑ (پچھلا حصہ) ہے۔
والحارك: أعلى الكاهل.
📝 توضیح: "الحارك" سے مراد اونٹ کی کوہان کا بالائی حصہ ہے۔
ولا يعارض إسراعه ﷺ في وادي محسِّر، فقد كان يسرع فيه، أما الإيضاع الذي فعلته الأعراب ولم يكن من فعله ﷺ، إنما هو عند الإفاضة من عرفات، انظر توجيه ذلك في "زاد المعاد" 2/ 309.
📚 مجموعی اصول: نبی ﷺ کا یہ (آہستہ چلنا) وادیِ محسِّر میں تیز چلنے کے منافی نہیں، کیونکہ وہاں آپ ﷺ تیز چلتے تھے؛ جبکہ جس "ایضاع" (تیز رفتاری) سے آپ ﷺ نے اعرابیوں کو روکا وہ عرفات سے واپسی کے وقت کا عمل تھا۔ (دیکھیں: زاد المعاد 2/309)