🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. الأجر على قدر النفقة والتعب
اجر خرچ اور مشقت کے بقدر ملتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1751
أخبرنا أحمد بن سَهْل بن حَمْدَوَيهِ الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا هُشيم، عن ابن عَوْن، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لها في عُمْرتِها:"إِنَّ لكِ من الأجر على قَدْرِ نَصَبِكِ ونَفَقَتِكِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح:
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے عمرہ کے متعلق فرمایا: تیرے تھکاوٹ اور خرچ کی مناسبت سے تیرے لیے اجر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1751]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1751 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سعيد بن سليمان: هو الضبي الواسطي، وابن عون: هو عبد الله بن عون بن أرطبان، والقاسم بن محمد: هو ابن أبي بكر الصديق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: سعید بن سلیمان سے مراد الضبی الواسطی، ابن عون سے مراد عبد اللہ بن عون اور القاسم بن محمد سے مراد ابن ابی بکر الصدیق ہیں۔
وهو قطعة من حديث عائشة في حيضتها في الحج، وعمرتها من التنعيم.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حضرت عائشہؓ کی اس طویل حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جو ان کے حج کے دوران حیض آنے اور پھر تنعیم سے عمرہ کرنے کے متعلق ہے۔
وأخرجه هكذا مختصرًا أحمد 40/ (24159)، والبخاري (1787)، ومسلم (1211) (126) و (127) من طرق عن ابن عون، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح مختصراً امام احمد (40/24159)، بخاری (1787) اور مسلم (1211) نے ابن عون کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: امام حاکم کا اسے "استدراک" کرنا (صحیحین کی شرط پر زائد سمجھنا) ان کا سہو (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں موجود ہے۔
وانظر ما بعده.
🔍 ہدایت: اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔