المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
57. الأجر على قدر النفقة والتعب
اجر خرچ اور مشقت کے بقدر ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 1752
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا علي بن سَلْم (2) الأصبهاني، حدثنا أبو الفضل جعفر بن مُكْرَم الرازي، حدثنا أبو عليٍّ الحسن بن إدريس الحُلْواني (3) ، حدثنا مِهْران بن أبي عمر، حدثنا سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن الأسوَد، عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال لها في عمرتها:"إنَّما أجرُكِ في عُمرَتِكِ على قَدْرِ نَفَقَتِكِ" (1) .
اُمْ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے عمرہ کے متعلق کہا: تیرے عمرے کا ثواب تیرے نفقہ کی مقدار کے مطابق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1752]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1752 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرف في (ص) و (ع) إلى: مسلم، وقد نسبه المصنف هنا إلى جده، وهو علي بن الحسن بن سلم الأصبهاني، له ترجمة في "سير أعلام النبلاء" 14/ 411.
🔍 فنی نکتہ: نسخہ (ص) اور (ع) میں نام "مسلم" ہو گیا ہے، جبکہ مصنف نے یہاں انہیں ان کے دادا کی طرف منسوب کیا ہے، یعنی یہ علی بن الحسن بن سلم اصبہانی ہیں جن کا ذکر 'سیر اعلام النبلاء' میں ہے۔
(3) الحسن بن إدريس الحلواني أبو علي، لم نقف له على ترجمة بهذه النسبةِ، وقد سبرنا أحاديثه في المصادر فوجدناه يروي عن الإمام الشافعي وعن مهران بن أبي عمر وسليمان بن أبي هوذة وإسحاق بن سليمان الرازي، ويروي عنه أحمد بن يحيى الحلواني وجعفر بن مكرم والحسن بن محمد البجلي ومحمد بن إبراهيم بن عبد الحميد، ثم إن هذه المصادر قد اضطربت في اسمه، ففي بعضها: الحسن، وفي بعضها: الحسين، لذلك قال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 1/ 28: لم أر أحدًا ذكره.
🔍 فنی نکتہ: الحسن بن ادریس الحلوانی کی اس نسبت کے ساتھ ہمیں کوئی صریح توثیق نہیں ملی۔ مصادر میں ان کے نام میں اضطراب ہے، کہیں حسن اور کہیں حسین لکھا ہے، اسی لیے ہیثمی نے کہا کہ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے نہیں دیکھا۔
قلنا: قد وقفنا في طبقته على اثنين، كنية كلٍّ منهما أبو علي، الأول: الحسن بن إدريس العسكري، روى عنه جمع، له ترجمة في "طبقات المحدثين بأصبهان" لأبي الشيخ 4/ 73، و"أخبار أصبهان" لأبي نعيم 1/ 263 - 264، وترجمه الذهبي أيضًا في "تاريخ الإسلام" 6/ 929، و"ميزان الاعتدال" ونَقَل عن ابن مردويه قوله: قدم أصبهان وكان يحدّث من حفظه ويخطئ.
🔍 تحقیقی دفاع: (محقق کہتے ہیں کہ) ہم نے اس طبقے میں اس نام کے دو راوی پائے ہیں۔ پہلا حسن بن ادریس العسکری ہے، جس کا ذکر ابن مردویہ نے کیا کہ وہ اصبہان آئے اور اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کرتے تھے اور غلطیاں کر جاتے تھے۔
والثاني: الحسين بن إدريس بن المبارك الهروي الحافظ، صاحب تصنيف، وثقه الدارقطني ¤ ¤ وابن حبان والذهبي، وترجم له الذهبي في "السير" 14/ 113، و"تاريخ الإسلام" 7/ 33، و"تذكرة الحفاظ" 2/ 192، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 14/ 41، وابن أبي حاتم 3/ 47، وغيرهم، وقد وقعت تسمية هذا الأخير أيضًا في بعض المصادر: الحسن.
🔍 فنی نکتہ: دوسرا راوی الحسین بن ادریس الہروی الحافظ ہے، جو صاحبِ تصنیف ہیں اور دارقطنی، ابن حبان اور ذہبی نے انہیں "ثقہ" قرار دیا ہے۔ بعض مصادر میں ان کا نام بھی "حسن" لکھ دیا گیا ہے۔
وعليه فإن يكن الحلوانيُّ صاحبُنا هو العسكريَّ، فهو من قبيل الحسن، وإن كان هو الأنصاريَّ الهرويَّ، فهو صحيح الحديث، وإن لم يكن هذا ولا ذاك، فهو مستور الحال، وعلى كل حالٍ فهو متابع هنا في هذا الحديث.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: اگر یہ الحلوانی وہی 'عسکری' ہیں تو ان کا درجہ "حسن" ہے، اور اگر 'ہروی' ہیں تو ان کی حدیث "صحیح" ہے، اور اگر کوئی اور ہیں تو "مستور الحال" ہیں؛ بہرصورت اس حدیث میں ان کی متابعت موجود ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل مهران بن أبي عمر، لكنه هو والحسن بن إدريس الحلواني قد توبعا، وباقي رجاله ثقات. سفيان: هو الثوري، ومنصور: هو ابن المعتمر، وإبراهيم: هو ابن يزيد النخعي، والأسود: هو ابن يزيد النخعي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ مہران بن ابی عمر کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر مہران اور حسن بن ادریس دونوں کی متابعت موجود ہے اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: سفیان سے مراد الثوری اور منصور سے مراد ابن المعتمر ہیں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24159)، والبخاري (1787)، ومسلم (1211) (126) و (127) من طرق عن عبد الله بن عون بن أرطبان، عن إبراهيم بن يزيد النخعي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1787) اور مسلم (1211) نے عبد اللہ بن عون عن ابراہیم نخعی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف قبله من طريق عبد الله بن عون، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، وكلا الطريقين محفوظ عن ابن عون.
🧩 متابعات و شواہد: پیچھے یہ روایت ابن عون عن القاسم عن عائشہؓ کے طریق سے بھی گزر چکی ہے، اور یہ دونوں طرق ابن عون سے محفوظ (ثابت) ہیں۔