🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. إذا قضى أحدكم حجه فليعجل الرحلة إلى أهله
جب تم میں سے کوئی اپنا حج مکمل کر لے تو اپنے گھر والوں کی طرف جلد روانہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1773
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار. وأخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال؛ قالا: حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا أبو حمزة، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباسٍ قال: جاء جبريلُ إلى رسول الله ﷺ، فَذَهَبَ به ليُرِيَه المناسكَ، فانفَرَجَ له ثَبِيرٌ، فدخل منًى، فأراه الجِمَار، ثم أراه جَمْعًا، ثم أراه عرفاتٍ، فنَبَعَ الشيطانُ للنبيِّ ﷺ عند الجَمْرة، فرَمَى بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في الجَمْرة الثانية، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في جَمْرة العَقَبة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخَ فذهب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام اللہ کے رسول (سیدنا ابراہیم) کے پاس آئے اور ان کو مناسک حج دکھانے کے لیے اپنے ساتھ لے گئے تو نرم زمین ان کے لیے کھل گئی، وہ منٰی میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرات دکھائے پھر ان کو میدان عرفات دکھایا، پھر جمرہ کے پاس شیطان نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے کی کوشش کی، انہوں نے اس کو سات کنکریاں ماریں، جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد دوسرے جمرہ کے پاس بھی شیطان نے وہی حرکت کی، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر تیسری مرتبہ جمرہ عقبہ کے پاس شیطان نے وہی حرکت کی، انہوں نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر وہ چلا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1773]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1773 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لتفرد عطاء بن السائب به، وكان قد اختلط بأخرة، ولم يَذكُر أحدٌ أنَّ أبا حمزة - وهو محمد بن ميمون السُّكري - قد روى عنه قبل الاختلاط، بل إنَّ ابن القطان الفاسي قد ذكر أبا حمزة السكري هذا فيمن اختلط، كما في ترجمته من "تهذيب التهذيب"، ثم إنَّ عطاء قد اضطرب فيه، فذكر هنا أنَّ صاحب القصة هو نبيُّنا محمد ﷺ، وذكر مرةً أخرى فيما رواه عنه حماد بن سلمة - وهو ممن روى عنه قبل الاختلاط وبعده - أنَّ صاحب القصة هو إبراهيم ﵇، كما عند أحمد 5/ (2794). أما عبد الله الغَزَّال - فهو وإن كان مجهولًا - قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ عطا بن السائب اسے بیان کرنے میں منفرد ہیں اور وہ آخری عمر میں اختلاط (یادداشت کی خرابی) کا شکار ہو گئے تھے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: عطا نے اس قصے میں اضطراب پیدا کیا؛ یہاں اسے نبی ﷺ کا واقعہ بتایا جبکہ دوسری جگہ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ قرار دیا۔
وأخرجه البيهقي 5/ 153 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال بإثره: تفرد به هكذا عطاء بن السائب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (5/153) نے امام حاکم سے روایت کیا اور کہا کہ عطا بن السائب اسے بیان کرنے میں منفرد ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2967) عن أحمد بن سعيد الدارمي، عن علي بن الحسن بن شقيق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2967) نے احمد بن سعید الدارمی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1731).
🔍 ہدایت: پیچھے گزری ہوئی حدیث نمبر (1731) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
وثَبير، بفتح فكسر: جبل بين مكة ومنى، وهو على يمين الداخل منها إلى مكة، ويسميه أهل مكة اليوم جبل الرَّخم.
📝 توضیح: "ثبیر" مکہ اور منیٰ کے درمیان ایک پہاڑ کا نام ہے، جسے آج مکہ والے "جبل الرخم" کہتے ہیں۔
وساخ: أي: تسفَّل في الأرض.
📝 توضیح: "ساخ" کا مطلب ہے زمین میں دھنس جانا یا نیچے ہو جانا۔