المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
جو ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھولنا جائز ہے اور اس پر ایک اور حج لازم ہے۔
حدیث نمبر: 1796
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، قال: سألتُ الحجاج بن عمرو الأنصاري عن حَبْسِ المسلم، فقال: قال رسول الله ﷺ:"مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حلَّ، وعليه الحجُّ من قابلٍ". قال عكرمة: فحدثتُ ابن عباس وأبا هريرةَ، فقالا: صَدَقَ الحجّاج (1) .
اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع فرماتے ہیں: میں نے حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مسلمان کی گرفتاری (یعنی جس مسلمان کو دشمن گرفتار کر لے) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا اس کے پاؤں میں ایسا زخم آ جائے جس کی وجہ سے وہ چلنے کے قابل نہ رہے، اس کو احرام ختم کر دینا چاہیے اور اس پر دوسرا حج فرض ہو گا۔ عکرمہ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے حجاج کی تصدیق فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1796]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1796 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (1863)، وابن ماجه (3078)، والترمذي (940 م) من طرق عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1863)، ابن ماجہ (3078) اور ترمذی نے عبدالرزاق کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔