المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
جو ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھولنا جائز ہے اور اس پر ایک اور حج لازم ہے۔
حدیث نمبر: 1797
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر بن عبد الله قال: كانت قريشٌ يُدْعَونَ الحُمْسَ، وكانوا يَدخُلون من الأبواب في الإحرام، وكانت الأنصارُ وسائر العرب لا يَدخُلون من الأبواب في الإحرام، فبينما رسولُ الله ﷺ في بستانٍ، فخرج من بابه، وخرج معه قُطْبةُ بن عامرٍ الأنصاري، فقالوا: يا رسولَ الله، إنَّ قُطبة بن عامر رجلٌ فاجر، وإنه خرج معك من الباب، فقال:"ما حَمَلَكَ على ذلك؟" قال: رأيتُك فعلتَ، ففعلتُ كما فعلتَ، فقال:"إِنِّي أحمَسُ"، قال: إِنَّ دِيني دِينُك، فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا﴾ [البقرة: 189] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریش کو حمس کہا جاتا تھا (کیونکہ وہ دینی معاملات میں بہت شدت پسند تھے) یہ لوگ حالت ِاحرام میں دروازوں سے داخل ہوا کرتے تھے جبکہ اہلِ عرب احرام میں دروازوں سے داخل نہیں ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تھے، وہاں سے دروازے کے راستے باہر نکلے اور آپ کے ہمراہ قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ بھی نکل آئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قطبہ بن عامر فاجر شخص ہے کیونکہ یہ آپ کے ہمراہ دروازے سے باہر نکلا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے یہ کام کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپ کو یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ کر کیا ہے، پھر وہ کہنے لگا: میں احمس ہوں (یعنی قریش ہوں) آپ نے فرمایا: تیرے اور میرے دین میں کوئی فرق نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا وَ ٰلکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰیج وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِہَا) (البقرۃ: 189) ” اور یہ کچھ بھلائی نہیں ہے کہ گھروں میں پچھیت توڑ کر آؤ، ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے اور گھروں میں دروازوں سے آؤ۔ “ (،) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن انہوں نے یہ اضافہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1797]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1797 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي، لكن اختلف في وصله وإرساله، فقد رواه عمار بن رزيق هنا عن الأعمش عن أبي سفيان - وهو طلحة بن نافع - عن جابر بن عبد الله، فذكره هكذا موصولًا، ورواه عَبيدة بن حميد عن الأعمش به، واختلف عليه في وصله وإرساله كما سيأتي. أبو الجوَّاب: هو الأحوص بن جواب.
⚖️ درجۂ حدیث: سند قوی ہے، مگر اس کے متصل یا مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔ عمار بن رزیق نے اسے الاعمش عن ابی سفیان (طلحہ بن نافع) عن جابرؓ کے واسطے سے "موصول" روایت کیا ہے، جبکہ عبیدہ بن حمید سے اس میں اختلاف مروی ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة في الحج كما في "إتحاف المهرة" 3/ 185 (2786) عن العباس بن عبد العظيم، وابن أبي حاتم في "التفسير" 1/ 323 عن أحمد بن منصور الرمادي، كلاهما عن أبي الجواب، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه الواحدي في "أسباب النزول" (100)، والحازمي في "الاعتبار" ص 150 من طريق أبي الشيخ عبد الله بن محمد بن حيان الأصبهاني، عن أبي يحيى الرازي، عن سهل بن عثمان، عن عبيدة بن حميد، عن سليمان الأعمش، به موصولًا أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ، ابن ابی حاتم، الواحدی (اسباب النزول میں) اور الحازمی نے مختلف طرق سے "موصول" ہی روایت کیا ہے۔
ورواه أبو الشيخ مرةً فأرسله، فقد أخرجه في "تفسيره" كما في "إتحاف المهرة" (2786) - وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5762) - عن أبي يحيى الرازي، عن سهل بن عثمان، عن عبيدة، عن الأعمش، عن أبي سفيان مرسلًا.
🔍 سندی اختلاف: ابوالشیخ نے اسے ایک دوسری جگہ ابویحییٰ الرازی کے طریق سے الاعمش عن ابی سفیان سے "مرسل" (بغیر صحابی کے) روایت کیا ہے۔
ورواه هناد بن السري عن عبيدة فأرسله أيضًا، فقد أخرجه بقيّ بن مخلد كما في "إتحاف المهرة" (2786) - ومن طريقه ابن بَشكُوال في "غوامض الأسماء المبهمة" 2/ 737 - 738 - عن هناد، عن عبيدة، عن الأعمش، عن أبي سفيان مرسلًا.
🔍 سندی اختلاف: ہناد بن السری نے بھی عبیدہ کے واسطے سے اسے "مرسل" ہی روایت کیا ہے (دیکھیں: غوامض الاسماء 2/737)۔
ولقصة قطبة هذه أصل من حديث جابر عند أحمد 22/ (14607) من رواية ابن لهيعة عن أبي الزبير عن جابر.
📌 اہم نکتہ: قطبہؓ کے اس قصے کی اصل حضرت جابرؓ کی حدیث سے مسند احمد (22/14607) میں ابن لہیہ کے طریق سے ثابت ہے۔
وانظر "فتح الباري" لابن حجر 6/ 50 - 52.
🔍 ہدایت: مزید تفصیل کے لیے ابن حجر کی "فتح الباری" (6/50-52) ملاحظہ فرمائیں۔
وفي الباب عن البراء بن عازب عند البخاري (1803)، ومسلم (3026).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں براء بن عازبؓ کی حدیث بخاری (1803) اور مسلم (3026) میں موجود ہے۔
قوله: "إني أحمس" من الحُمْس، وهم قريش وما ولدت، قال ذلك عروة بن الزبير كما عند البخاري (1665)، ومسلم (1219) (152).
📝 توضیح: قول "میں احمسی ہوں" سے مراد قریش اور ان کی اولاد ہے، جیسا کہ عروہ بن زبیرؓ نے بخاری و مسلم میں اس کی وضاحت کی ہے۔