المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى
جو ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھولنا جائز ہے اور اس پر ایک اور حج لازم ہے۔
حدیث نمبر: 1795
أخبرنا علي بن حَمْشاذ العدلُ، حدثنا هشام بن علي، حدثنا أبو النُّعمان عارِمٌ، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثني الحجاج بن أبي عثمان، حدثني يحيى بن أبي كثير، أنَّ عِكْرِمة مولى ابن عباس حدثه، قال: حدثني الحجّاج بن عمرو الأنصاري، أنه سمع رسولَ الله ﷺ:"مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حلَّ، وعليه حَجّةٌ أخرى". قال: فحدثتُ ابن عباس وأبا هريرةَ فقالا: صَدَق (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقيل: عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، عن الحجاج بن عمرو:
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقيل: عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، عن الحجاج بن عمرو:
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا پاؤں میں زخم آ جائے، تو اس کے لیے احرام ختم کر دینا جائز ہے۔ اور اس پر ایک اور حج فرض ہے (عکرمہ فرماتے ہیں) میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اور یہ حدیث عکرمہ کے بعد اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع کے واسطے سے بھی حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1795]
حدیث نمبر: 1796
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، قال: سألتُ الحجاج بن عمرو الأنصاري عن حَبْسِ المسلم، فقال: قال رسول الله ﷺ:"مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حلَّ، وعليه الحجُّ من قابلٍ". قال عكرمة: فحدثتُ ابن عباس وأبا هريرةَ، فقالا: صَدَقَ الحجّاج (1) .
اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع فرماتے ہیں: میں نے حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مسلمان کی گرفتاری (یعنی جس مسلمان کو دشمن گرفتار کر لے) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا اس کے پاؤں میں ایسا زخم آ جائے جس کی وجہ سے وہ چلنے کے قابل نہ رہے، اس کو احرام ختم کر دینا چاہیے اور اس پر دوسرا حج فرض ہو گا۔ عکرمہ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے حجاج کی تصدیق فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1796]
حدیث نمبر: 1797
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر بن عبد الله قال: كانت قريشٌ يُدْعَونَ الحُمْسَ، وكانوا يَدخُلون من الأبواب في الإحرام، وكانت الأنصارُ وسائر العرب لا يَدخُلون من الأبواب في الإحرام، فبينما رسولُ الله ﷺ في بستانٍ، فخرج من بابه، وخرج معه قُطْبةُ بن عامرٍ الأنصاري، فقالوا: يا رسولَ الله، إنَّ قُطبة بن عامر رجلٌ فاجر، وإنه خرج معك من الباب، فقال:"ما حَمَلَكَ على ذلك؟" قال: رأيتُك فعلتَ، ففعلتُ كما فعلتَ، فقال:"إِنِّي أحمَسُ"، قال: إِنَّ دِيني دِينُك، فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا﴾ [البقرة: 189] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریش کو حمس کہا جاتا تھا (کیونکہ وہ دینی معاملات میں بہت شدت پسند تھے) یہ لوگ حالت ِاحرام میں دروازوں سے داخل ہوا کرتے تھے جبکہ اہلِ عرب احرام میں دروازوں سے داخل نہیں ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تھے، وہاں سے دروازے کے راستے باہر نکلے اور آپ کے ہمراہ قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ بھی نکل آئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قطبہ بن عامر فاجر شخص ہے کیونکہ یہ آپ کے ہمراہ دروازے سے باہر نکلا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے یہ کام کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپ کو یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ کر کیا ہے، پھر وہ کہنے لگا: میں احمس ہوں (یعنی قریش ہوں) آپ نے فرمایا: تیرے اور میرے دین میں کوئی فرق نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا وَ ٰلکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰیج وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِہَا) (البقرۃ: 189) ” اور یہ کچھ بھلائی نہیں ہے کہ گھروں میں پچھیت توڑ کر آؤ، ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے اور گھروں میں دروازوں سے آؤ۔ “ (،) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن انہوں نے یہ اضافہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1797]